?️
سچ خبریں:قطری ویب سائٹ عربی 21 نے لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسے لبنان کے لیے سنگین نتائج کا حامل قرار دیا ہے۔
قطری ویب سائٹ عربی 21 نے لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تفصیلی تجزیہ شائع کرتے ہوئے اس کی آٹھ متنازع شقوں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں معاہدے کے سیاسی، سلامتی اور قانونی اثرات پر تنقیدی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔
لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جاری تجزیوں کے سلسلے میں قطری ویب سائٹ عربی 21 نے لبنان اور اسرائیل کا معاہدہ؛ متن کے اعتبار سے تباہ کن اور نتائج کے لحاظ سے نہایت خطرناک کے عنوان سے ایک تجزیہ شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے صہیونی حکومت کو ایسے غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں جن کا خود تل ابیب نے بھی تصور نہیں کیا تھا، اور معاہدے کی شقوں کے مطابق وہ لبنان میں اپنی افواج کو درپیش کسی بھی مبینہ خطرے کو کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے حامی اسے لبنان کی سفارت کاری کی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے لبنان کی خودمختاری محفوظ ہوگی اور صہیونی افواج لبنان سے نکل جائیں گی، تاہم معاہدے کی تفصیلی جانچ سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے مندرجات لبنان کے لیے نہایت سنگین اور دور رس نتائج کے حامل ہیں، خصوصاً خودمختاری اور صہیونی افواج کے انخلا کے حوالے سے۔
رپورٹ میں معاہدے کی آٹھ اہم اور متنازع شقوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پہلا نکتہ، معاہدے کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تل ابیب کا مقصد لبنان کے معاملے میں ایران کی سفارتی کامیابیوں کو محدود کرنا اور لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں پر کسی ممکنہ پابندی سے بچنا تھا۔
تجزیے میں سابق صہیونی فوجی عہدیدار اسرائیل زیو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل لبنان میں فوجی دباؤ، امریکہ کے سیاسی دباؤ اور ایران کے کردار کی وجہ سے مشکل صورت حال سے دوچار تھا، جس سے نکلنے کے لیے لبنان کے ساتھ ایسا معاہدہ ضروری سمجھا گیا جو لبنان میں صیہونی فوج کی موجودگی کو قانونی جواز فراہم کرے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان کے اندر داخلی کشیدگی اور حتیٰ کہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ صہیونی حکومت کو ہوگا۔
دوسرا نکتہ، مسئلے کی تعریف
عربی 21 کے مطابق معاہدے کی متعدد شقوں میں حزب اللہ کی کارروائیوں کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ صیہونی حملوں کو دفاعی اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تجزیہ کے مطابق اس انداز میں صہیونی حکومت کی طویل عرصے سے جاری جارحیت اور لبنان پر قبضے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
تیسرا نکتہ، فریقین کی درجہ بندی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں حزب اللہ اور لبنان کی مزاحمتی قوتوں کو ریاستی دائرۂ کار سے باہر مسلح گروہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ صیہونی فوج کو دفاعی افواج کے نام سے بیان کیا گیا ہے، بغیر اس کے کہ اس کی قبضہ گیر حیثیت کا کوئی ذکر کیا جائے۔
چوتھا نکتہ، اختیارات کی ترتیب
تجزیہ کے مطابق معاہدہ لبنان کی حکومت کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ صہیونی افواج کے انخلا سے پہلے مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرے اور ان کا بنیادی ڈھانچہ ختم کرے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنان کی تعمیر نو اور بے گھر شہریوں کی واپسی کو بھی انہی شرائط سے مشروط کیا گیا ہے، یعنی جب تک لبنان اپنی تمام ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا، تعمیر نو کا عمل شروع نہیں ہوگا۔
پانچواں نکتہ، لبنان کی خودمختاری
تجزیے کے مطابق معاہدہ عملی طور پر لبنان کی خودمختاری کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ اس میں جنوبی لبنان کے نام نہاد آزمائشی علاقوں کے انتظام سے متعلق حتمی فیصلہ صہیونی حکومت کے اختیار میں رکھا گیا ہے اور صیہونی افواج کے انخلا کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال میں لبنان کا دشمن ہی لبنان کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے والا فریق بن جاتا ہے۔
چھٹا نکتہ، تعلقات کی معمول پر آوری
عربی 21 کے مطابق معاہدہ صرف سلامتی کے معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس میں مشترکہ مقصد، پائیدار امن، پرامن تعلقات اور حسن ہمسائیگی جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے میں جامع امن اور سلامتی کے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ساتواں نکتہ، صہیونی حکومت کو قانونی تحفظ
رپورٹ کے مطابق معاہدہ اسرائیل کو لبنان سے فوری انخلا کا پابند نہیں بناتا بلکہ صرف ان شرائط کا ذکر کرتا ہے جن کے پورا ہونے کے بعد انخلا ممکن ہوگا۔
مزید کہا گیا ہے کہ معاہدہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، جسے تجزیہ میں لبنان پر مستقبل میں کسی بھی وقت حملے کے لیے قانونی جواز قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں صہیونی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ سلامتی ضمیمے کے تحت صیہونی افواج کو آزمائشی علاقوں میں داخل ہو کر لبنانی فوج کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
آٹھواں نکتہ، قبضے کو مضبوط کرنا
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی تیرہویں شق میں لبنان کی حکومت اس بات کی پابند بنتی ہے کہ وہ صہیونی حکومت یا اس کی افواج کے خلاف بین الاقوامی سیاسی یا قانونی اداروں میں کوئی اعتراض یا کارروائی نہیں کرے گی، حالانکہ معاہدے میں صیہونی افواج کے مکمل انخلا کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔
اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے میں لبنان پر حملوں، شہریوں کی ہلاکت، بے گھری، تباہی یا قبضے کے بدلے اسرائیل کی جانب سے کسی قسم کے ہرجانے یا معاوضے کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے اختتام میں عربی 21 نے لکھا ہے کہ اس معاہدے کو لبنان کے آئینی، سیاسی اور قانونی حلقوں میں قومی خودمختاری کی توہین اور صہیونی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیے کے مطابق یہ معاہدہ صہیونی حکومت کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، مزاحمت کو بنیادی مسئلہ قرار دیتا ہے اور صیہونی افواج کے انخلا کو لبنان کی حکومت اور فوج کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف اقدامات سے مشروط کرتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے لبنان کی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے اس معاہدے کو فتنہ قرار دیتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔
تجزیہ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ اس وقت تک اپنے ہتھیار ڈالنے یا اپنے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے پر رضامند نہیں ہوگا جب تک لبنان سے صہیونی افواج کے انخلا کی واضح ضمانت موجود نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ لبنانی قیادت کے اقدامات کو اسرائیل کے مفاد میں قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے ممکنہ نتائج مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
قابض حکومت استقامت کاروں کے صبر کا امتحان نہ لے: اسلامی جہاد
?️ 29 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے ترجمان طارق عزالدین نے
ستمبر
رابرٹ مالی کی قطری وزیر خارجہ سے ایران کے بارے میں بات چیت
?️ 28 جون 2022سچ خبریں: قطر میں امریکی سفارت خانے نے ٹویٹر پر کہا
جون
حماس سے جنگ بندی جاری رکھنے کی درخواست دوہری شرمندگی ہے: بن گوئر
?️ 8 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مستعفی وزیر اٹمربن گوئر
مارچ
استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات کا دوسرا دور ختم، مذاکرات تین دن جاری رہنے کا امکان
?️ 25 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مستقل جنگ بندی کیلئے پاکستان اور افغان طالبان
اکتوبر
خلیج فارس کے ممالک کو صیہونی جاسوسی سافٹ ویئر کی برآمد
?️ 9 مارچ 2023بدھ کی شام صہیونی اخبار Haaretz نے خبر دی ہے کہ صیہونی
مارچ
امریکی سائبر کمانڈ کے مزید دو اعلیٰ عہدیدار سگنل میسنجر کی نظر؛عہدے سے سبکدوش
?️ 6 اپریل 2025 سچ خبریں:ذرائع نے خبر دی ہے کہ امریکہ کے سائبر کمانڈ
اپریل
بعض یورپی ممالک شام کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کر رہے ہیں: اسپوٹنک
?️ 13 مئی 2022سچ خبریں: اسپوٹنک کے ایک انٹرویو کے مطابق شام کے خلاف پابندیوں
مئی
ایران جنگ نے امریکی اتحادیوں کو سیاسی و معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے؛ سی این این کی رپورٹ
?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں:سی این این کے مطابق ایران اور امریکہ کی جنگ اب
اپریل