?️
سچ خبریں:الشرق کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے ٹیکنالوجی، توانائی، خودمختاری اور عالمی طاقت کے توازن سے متعلق اہم اسباق دنیا کے سامنے رکھ دیے۔
روزنامہ الشرق نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تنازع سے کئی اہم اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اس جارحیت کا مقابلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ ظلم اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت اور کامیابی صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی ممکن ہے، اور یہ جدید تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔
پہلا سبق: خود انحصاری اور ٹیکنالوجی
الشرق کے مطابق ایران نے ثابت کیا کہ داخلی وسائل کے ذریعے جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے۔ میزائلوں کا جدید دفاعی نظاموں جیسے آئرن ڈوم، پیٹریاٹ، فلاخنِ داوود اور تھاڈ کو عبور کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے جدید میزائل ٹیکنالوجی، رہنمائی نظام اور سیٹلائٹ کنٹرول جیسے عوامل درکار ہوتے ہیں۔
یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کسی کو دی نہیں جاتی بلکہ اسے حاصل کیا جاتا ہے، اور دفاع کے لیے دوسروں پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسرا سبق: توانائی بطور ہتھیار
اس تجزیے میں کہا گیا کہ تیل اور گیس صرف وسائل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔ ان توانائی مراکز کو نشانہ بنانا صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کو ان وسائل کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
لہٰذا توانائی کو کمزوری کے بجائے ایک طاقت اور بازدار قوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا سبق: غیر ملکی فوجی اڈوں کا خطرہ
الشرق کے مطابق کسی بھی ملک میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی قومی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ جنگ کے وقت قربانی مقامی عوام دیتے ہیں، نہ کہ بیرونی افواج۔
یہ ایک واضح پیغام ہے کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کسی ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتا بلکہ بعض اوقات خود خطرہ بن جاتا ہے۔
چوتھا سبق: بیرونی حمایت پر انحصار کرنے والی اپوزیشن کی ناکامی
اس تجزیے میں کہا گیا کہ جو اپوزیشن بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی ہے، وہ بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ بیرونی قوتیں اکثر اپنے مفادات کے لیے ایسے گروہوں کو استعمال کرتی ہیں اور بعد میں انہیں تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔
ایران کے معاملے میں بھی بیرونی وعدے عملی مدد میں تبدیل نہیں ہوئے۔
پانچواں سبق: جغرافیائی اہمیت اور عالمی توازن
ایران کی جنگ نے اس بات کو واضح کیا کہ کسی ملک کی جغرافیائی حیثیت کتنی اہم ہوتی ہے۔ خطے میں عدم استحکام نہ صرف مقامی بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر ہوا کہ مغربی دنیا پہلے جیسی متحد نہیں رہی، اور نیٹو کے اندر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں، جبکہ روس اور چین جیسے ممالک عالمی توازن کو بدل رہے ہیں۔
خلاصہ
الشرق کے مطابق یہ جنگ صرف ایک عسکری تصادم نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک سبق ہے جس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ خود انحصاری، توانائی کا کنٹرول، جغرافیائی اہمیت اور عوامی استقامت کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہیں۔


مشہور خبریں۔
تمام ممالک کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں: معید یوسف
?️ 25 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا
فروری
بجلی اور گیس پر مزید ٹیکس بڑھا دیا گیا
?️ 20 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق غیر رجسٹرڈ صنعتی اور کمرشل
ستمبر
نیتن یاہو کا ستمبر 2026 تک کے انتخابی منصوبے کا انکشاف
?️ 25 جولائی 2025اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم نیتن یاہو انتخابات کی تاریخ کو اس
جولائی
پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں: طالبان وزیر خارجہ
?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان
فروری
آپ اسرائیلی ویزمین انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں کیا جانتے ہیں جسے ایران نے نشانہ بنایا؟
?️ 15 جون 2025سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے گذشتہ رات مقبوضہ
جون
صیہونی جنرل: فوج شام کے اندر اسٹریٹجک پوائنٹس پر موجود ہے
?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف ایال ضمیر نے
جولائی
غزہ میں فلسطینی مجاہدین کی چابکدستی؛صیہونیوں کا ناک میں دم
?️ 16 جولائی 2025 سچ خبریں:صہیونی حملوں کے باوجود فلسطینی مجاہدین نے غزہ میں حیران
جولائی
ایرانی صدر کے پہلے ٹیلی ویژن خطاب پر عالمی میڈیا کا ردعمل
?️ 5 ستمبر 2021سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایرانی صدر کے لوگوں کے ساتھ اپنے پہلے
ستمبر