ٹرمپ خطے میں کس لیے آیا ہے ؟

ٹرمپ

?️

سچ خبریں: عبدالباری عطوان، الرائی الیوم کے ایڈیٹر ان چیف اور ممتاز فلسطینی تجزیہ کار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطے کے دورے پر اپنے تازہ اداریے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اس سفر کو میڈیا میں دو اصطلاحات کے ساتھ غیرمعمولی طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔
پہلا یہ کہ اسے "تاریخی سفر” قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ٹرمپ کا پہلا دورہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ سعودی عرب جانے والے پہلے امریکی رہنما ہیں۔ دوسرا نکتہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات میں پیدا ہونے والے بحران کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس بحران کی حقیقی نوعیت واضح نہیں ہے۔ خاص طور پر عیدان الیگزینڈر کے معاملے پر، جو ایک اسرائیلی فوجی ہے نہ کہ امریکی، اور جس کا کوئی سیاسی یا فوجی وزن نہیں ہے۔
ٹرمپ عرب ممالک سے امریکی بحران کے حل کے لیے تعاوان وصول کرنے آیا ہے
عطوان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے ہیں، اور ٹرمپ کا تل ابیب کا دورہ بھی ہوگا، کیونکہ صہیونی رہنما ہی امریکہ کو کنٹرول کرتے ہیں نہ کہ اس کے برعکس۔ درحقیقت، ٹرمپ خطے میں اس لیے آیا ہے تاکہ عرب ممالک کے اربوں ڈالر کے وسائل کو امریکی معیشت کے بحران اور 42 کھرب ڈالر کے قومی قرضے کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ یورپی اتحادی نہیں بلکہ عرب ممالک ہی وہ فریق ہیں جو ٹرمپ کے اس ہدف کو پورا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا موجودہ دورے میں فلسطین نہ جانا درحقیقت اپنے اصل مقاصد کو چھپانے کی کوشش ہے۔ اگر ٹرمپ واقعی تاریخی سفر کرنا چاہتا تو وہ غزہ پر اسرائیلی نسل کشی کے فوری خاتمے کا حکم دیتا اور نیتن یاہو کو اس پر مجبور کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتا۔ لیکن ہم عرب اور مسلمان قومین امریکی اصطلاحات کو دہرانے اور ان کے رہنماؤں کے استقبال میں مبالغہ آرائی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا، غزہ پر حملے جاری رہیں گے
عطوان کے مطابق، ٹرمپ خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا بلکہ اربوں ڈالر لے کر واپس جائے گا، اور جیسے ہی اس کا طیارہ واشنگٹن کے لیے اڑان بھرے گا، نیتن یاہو غزہ پر شدید حملے شروع کر دے گا۔ یہ بالکل اس کہاوت کی مانند ہے کہ "پرندے اپنی روزی لے کر اڑ جاتے ہیں۔” آخر کار، صہیونی ریاست کی نسل کشی اور جنگی جرائم غزہ، ویسٹ بینک، یمن، لبنان اور شام میں امریکی حمایت سے جاری رہیں گے۔
ایران اور یمن میں ناکامی کے بعد ٹرمپ مذاکرات پر مجبور ہوا
انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کو احساس ہو چکا ہے کہ چین اور روس کے خلاف اس کی دھمکیاں ناکام ہو چکی ہیں، جیسا کہ یمن اور ایران کے معاملے میں ہوا۔ اسی لیے اس نے دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے تاکہ اپنی حقیقی اور فرضی جنگوں کو ختم کر سکے۔
عرب رہنماؤں کی امریکہ اور اسرائیل کے سامنے خوشامد
عطوان نے عرب رہنماؤں کی امریکہ اور صہیونی ریاست کے سامنے خوشامد اور فلسطینی عوام کی مدد نہ کرنے پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپلومیسی ایک چیز ہے اور دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ یہ بالکل درست نہیں کہ عرب ممالک امریکہ کو "نہ” نہیں کہہ سکتے۔ عرب ممالک کو آج "مہمان نوازی” اور "احترام” کے روایتی اصولوں کو ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ مغرب اخلاقیات نہیں سمجھتا بلکہ صرف اپنے مفادات کی زبان سمجھتا ہے۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ٹرمپ واشنگٹن خالی ہاتھ واپس جائے گا، سوائے اس کے کہ وہ غزہ، ویسٹ بینک، لبنان اور یمن میں نسل کشی بند کرنے، غزہ کی عوام کو بے گھر کرنے کی پالیسی سے دستبردار ہونے، دو ریاستی حل کو مکمل طور پر نافذ کرنے اور سعودی عرب کے دباؤ میں آئے بغیر فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کی ضمانت دے۔

مشہور خبریں۔

تل ابیب نے خود مختار تنظیم کی سکیورٹی فورسز کو دھمکی دی

?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں:     اسرائیلی فوج نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس

نتن یاہو پاتال کے کنارے پر

?️ 11 جولائی 2024سچ خبریں: آنے والا موسم خزاں صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن

وزیر اعظم نے این سی او سی کو سراہا

?️ 7 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) امریکی جریدے دی اکنامسٹ کی جانب سے عالمی وبا

اسٹیٹ بینک شرح سود کو کم کرکے 6 فیصد تک لائے، صنعتکاروں کا مطالبہ

?️ 26 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صنعتکاروں اور بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے اسٹیٹ

ایرانی ڈرون کے جعلی بیانیہ پر امریکہ میں تنازعہ

?️ 13 دسمبر 2024سچ خبریں: نیو جرسی پر نامعلوم اڑنے والی اشیاء کو دیکھنے سے

یوکرین کی شکست کے بارے میں امریکی سابق عہدیدار کا اہم بیان

?️ 14 اگست 2023سچ خبریں: امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر کا خیال ہے کہ

الاقصیٰ طوفان سے صہیونی معیشت کو ہونے والا نقصان

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں:جیسے جیسے الاقصی طوفان آپریشن اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو

بین الاقوامی ناوِگانِ صمود میں شامل معروف شخصیات

?️ 15 ستمبر 2025سچ خبریں: بین الاقوامی ناوِگانِ صمود میں متعدد معروف عرب اور غیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے