نیتن یاہو کی انتہاپسند کابینہ سخت تشویش میں مبتلا

تشویش

?️

سچ خبریں:مغربی کنارے میں مزاحمتی کاروائیوں میں شدت آنے کے بعد نتن یاہو کی کابینہ نے سخت تشویش کے ماحول میں انتہاپسند دائیں بازو کے وزراء کی طرف سے ان کاروائیوں کو روکنے کے لیے تجویز کردہ حل کا جائزہ لیا۔

مغربی کنارے میں مزاحمتی کاروائیوں میں شدت اور مقبوضہ بیت المقدس میں ہونے والی حالیہ شہادت طلبانہ اقدامات جن کے نتیجہ میں کم از کم آٹھ صیہونی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، نے صیہونی حکام کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے ان کاروائیوں کے بعد اپنی60 فیصد فوج مغربی کنارے میں تعینات کر دی لیکن پھر بھی فلسطینیوں کی مزاحمت کو نہیں روک سکے اور 24 گھنٹوں میں قابضین کے خلاف درجنوں آپریشن کیے گئے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمتی کاروائیوں میں شدت نے صیہونیوں کو سخت تشویش میں ڈال دیا ہے اور ان کے حساب کتاب میں خلل ایجاد کر دیا ہے نیز جنین، نابلس، طوباس، اور طولکرم بٹالینز کے مجاہدین کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں مزاحمتی نقطہ نظر کو مضبوط کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے نیتن یاہو کی انتہاپسند کابینہ کو سخت الجھن اور تشویش میں ڈال دیا ہے جس کا صیہونی سکیورٹی حکام نے اپنی ایک میٹنگ میں اعتراف کیا کہ آخری بار جب اسرائیل نے شعفاط میں پناہ گزین کیمپ کے خلاف تعزیری اقدامات کیے تو اس کارروائی کے نتیجے میں قابضین اور آباد کاروں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔

صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں مقبوضہ بیت المقدس میں حالیہ شہادت طلبانہ کاروائیوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ حکومت فلسطینیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش نہیں کر رہی ہے لیکن ہم کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے قدس میں فلسطینیوں کے شہادت طلبانہ آپریشن کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا ردعمل بھاری اور درست ہوگا۔ ہم کشیدگی کے خواہاں نہیں ہیں لیکن ہم کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، "ہم ہزاروں اسرائیلیوں کو بندوق کے پرمٹ کے اجراء میں اضافہ کرنے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جلد ہی آبدکاروں کی سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، یاد رہے کہ اس سے قبل صیہونی حکومت کی سکیورٹی کابینہ نے 3 گھنٹے کے اجلاس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں شہادت طلبانہ کے ردعمل میں مغربی کنارے میں صہیونی بستیوں میں حفاظتی اقدامات بڑھانے کا فیصلہ کیا ، تل ابیب کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں شہادت طلبانہ آپریشن کرنے والے فلسطینی عسکریت پسند کے گھر کو فوری طور پر مسمار کرنے کی بھی منظوری دی، اس کے علاوہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے اہل خانہ کو ان کی تنخواہوں، انشورنس اور دیگر مراعات سے بھی محروم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

چین چاند کی ملکیت کا ارادہ رکھتا ہے: ناسا کا دعویٰ

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے دعویٰ کیا کہ چین چاند

ہم تم سے نزدیک ہیں؛صیہونی ذرائع ابلاغ پر وسیع سائبر حملہ

?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:جنرل سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی شہادت کی دوسری برسی

افغانستان کے لیے انسانی امداد پر امریکی انتخابات کے اثرات

?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا ہے کہ نومبر میں ہونے والے

اسرائیل پر غزہ میں جرائم کا مقدمہ چلایا جائے

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں:عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے غزہ کی پٹی میں

وینزویلا کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت

?️ 21 اکتوبر 2021سچ خبریں:واشنگٹن کے حکاماس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ کاراکاس حکومت

ایران روس بڑھتے تعلقات سے امریکہ کو تشویش

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:امریکہ کا کہنا ہے کہ ہم مشرق وسطی سے نہیں نکلیں

خیبر پختونخوا:سوات میں پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے والے عسکریت پسندوں کی تلاش جاری

?️ 11 اگست 2022سوات: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور دیر کی سرحد

اسرائیلی سیاسی نظام پر عوام کے اعتماد میں گہرا بحران

?️ 30 جنوری 2025سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں یونیورسٹی آف حیفا کی جانب سے کیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے