?️
سچ خبریں:مغربی کنارے میں رہنے والے ایک انگریز تجزیہ کار رابرٹ انلاکش نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی حکومت کی فلسطینی جہاد اسلامی تحریک اور حماس کے مجاہدین کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی سازش ناکام ہو گئی۔
برطانوی تجزیہ کار رابرٹ انلاکش نے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ غزہ میں دو اہم فلسطینی گروپوں، جہاد اسلامی تحریک اور حماس کے مجاہدین کو تقسیم کرنے کی اسرائیل کی چال ایک بڑی غلط فہمی تھی، رابرٹ انلاکش نے صیہونی حکومت کی حالیہ فوجی جارحیت اور اپنے مقصد کے حصول میں ناکامی کی وجہ کا تجزیہ کیا، یاد رہے کہ یہ انگریز صحافی اور تجزیہ نگار کچھ عرصے سے مغربی کنارے میں مقیم ہیں اور ساتھ ہی میڈیا میں بھی کام کر رہے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ صیہونی حکومت نے اس چال کے ساتھ کہ محصور غزہ کی پٹی میں فلسطینی جہاد اسلامی (PIJ) کے عہدیداروں کے قتل پر اس گروہ کی جانب سے انفرادی ردعمل سامنے آتا ہے جس نے اس تنظیم کو تنہا کر دیا ہے،یہ سوچ کر اس نے غزہ پر بمباری کی جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے نے ثابت کر دیا کہ صیہونیوں کا یہ خیال باطل ہے، انلاکش صیہونی حکومت کے حالیہ حملے کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پہلے دن قابض فوج نے جہاد اسلامی کے رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر بمباری کی،یہ حملے مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بجے کے بعد ہوئے اور غزہ میں مقیم جہاد اسلامی تحریک کے تین سینئر رہنما خلیل باہتنی، جہاد غانم اور طارق عزالدین اپنی بیویوں اور بچوں سمیت مارے گئے۔ اس کے بعد، دو دیگر اہلکار، جو قدس فورسز کا حصہ تھے، اسرائیلی ڈرون حملوں میں مارے گئے، جس کے نتیجے میں غزہ سے تل ابیب اور دیگر مقبوضہ علاقوں کی طرف راکٹوں کی بارش کی صورت میں جوابی کارروائی ہوئی،تجزیہ کار مزید کہتے ہیں کہ جہاد اسلامی کے ایک عسکری ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صہیونیوں نے یہ حملہ اپنی ساکھ مضبوط کرنے اور مزاحمتی گروہوں میں اختلاف ڈالنے کے لیے کیا، انہوں نے کہا کہ وہ جہاد اسلامی کو حماس میں ہمارے بھائیوں سے الگ دیکھنا چاہتے تھے،تاہم ان کی یہ سازش ناکام ہو گئی ہے کیونکہ ایک گروہ پر حملہ کرنے کا مطلب ہے سب پر حملہ کرنا ثابت ہوا
تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی ناکام
رابرٹ انلاکش نے جہاد اسلامی کے سیاسی دفتر کے سربراہ محمد الہندی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے تاکید کی کہ دونوں فلسطینی تحریکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر سیاسی روابط ہیں اور ان کو تقسیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی،انلکاش نے مزید کہا کہ مزاحمتی قوتوں کے ردعمل کا اس طرح سے اندازہ نہیں تھ، اگرچہ تل ابیب پر میزائل فائر کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں لیکن بہت سے اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ آگ کی حد کو آہستہ آہستہ بڑھانے کی ماضی کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
انہوں نے جہاد اسلامی کے رہنماؤں میں سے ایک خضر عدنان کا حوالہ بھی دیا جو 86 دن کی غیر معینہ بھوک ہڑتال اور صہیونیوں کے ہاتھوں نظر انداز ہونے کے بعد جیل میں انتقال کر گئے،انہیں صیہونی حکومت نے 12 مرتبہ گرفتار کیا ، تجزیہ نگار فلسطینی قیدیوں کی کمیونٹی آرگنائزیشن کی رائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا کا ماننا ہے کہ جیل میں خضر عدنان کا قتل جیل حکام کی جانب سے دانستہ طبی غفلت کا نتیجہ تھا،برطانوی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ مزاحمتی تحرک میں اختلاف ڈالنے صیہونیوں کی کوشش ناکام ہوگئی اور ان کا کوئی بھی تیر نشانے پر نہیں لگا۔


مشہور خبریں۔
افغانستان میں امریکی سفارت خانے کے درجنوں افراد کورونا وائرس میں مبتلا، سفارتی سرگرمیوں کو روک دیا گیا
?️ 20 جون 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں امریکی سفارت خانے کے درجنوں افراد کورونا
جون
ماحولیاتی تبدیلی، تنازعات اور معاشی عدم مساوات دنیا بھر میں غربت بڑھا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو
?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا
اکتوبر
نیتن یاہو کی وجہ سے اسرائیلی عوامی دباؤ میں
?️ 15 مئی 2025سچ خبریں: حالیہ دنوں میں صیہونی قیدیوں کے خاندانوں اور اسرائیلی عوامی
مئی
میں نے اپنی زندگی میں ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی: صیہونی مقام
?️ 16 جون 2025سچ خبریں: ریشون لیزین کے مقام پر ایران کے میزائل حملے کے بعد
جون
ہم نے مغربی نصف کرہ میں فوجی آپریشن سدرن سپیئر شروع کیا ہے: امریکی وزیر جنگ
?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر نے مغربی نصف کرہ میں منشیات
نومبر
امریکیوں کی اپنے ملک میں جمہوریت کی حالت کے بارے میں مایوسی
?️ 20 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکہ میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے نتائج ظاہر کرتے
اکتوبر
نیٹو کی توسیع اور تیسری جنگ عظیم شروع ہونے کا امکان
?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کی حالیہ صورتحال اور روس
جولائی
یورپی یونین کا آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مشن میں حصہ لینے سے انکار
?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بحری کارروائیوں
مارچ