صعدہ جارحیت مأرب شکست کا بدلہ

مغربی

?️

سچ خبریں:انسانی حقوق کے دفاع کا دعویدار مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ نے یمنی عوام کے خلاف جارحیت کرنے والے سعودی – اماراتی اتحاد کی حمایت کر کے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو رسوا کر دیا ہے۔
امریکہ دنیا کو دکھانے کے لیے یمن میں خونریزی کے خاتمے کے لئے جنگ بندی پر اصرار کر رہا ہے جبکہ پس پردہ جنگ جاری رکھنے میں جارحیت پسندوں کی بھر پور حمایت کررہا ہے،یمن کی جنگ کے چھ سالوں کے دوران یمنی عوام پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والےریاستہائے متحدہ نے اپنی اسلحہ ساز کمپنیوں اور اسلحہ خانوں کے دروازے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یہاں تک کہ برطانیہ اور صہیونی حکومت کے لیے کھول رکھے ہیں کھولے ہیں۔

یادرہے کہ یمن کے خلاف جنگ ، زمینی ، سمندری اور ہوائی محاصرہ، ایسی جنگ جس کے نتیجے میں ہر 5 منٹ میں ایک یمنی بچے کی موت واقع ہوجاتی ہے اس کے علاوہ موت ، بھوک اور متعدی بیماریوں نے 20 ملین سے زیادہ یمنی شہریوں کو گھیر رکھا ہے،مغربی ممالک نے اپنی اس منافقت اور ڈھٹائی کو چھپانے کے لئے اقوام متحدہ کو بھی استعمال کیا ہے، امریکی اور مغربی ہتھیاروں کے ذریعہ جارحیت پسندوں نے یمن کے بنیادی ڈھانچے کارخانوں ، فارموں ، اسپتالوں ، یونیورسٹیوں ، اسکولوں ، اسپورٹس کلبوں اور بجلی اور پانی کی سہولیات کو تباہ کرنے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ہزاروں یمنی باشندوں کو شہید کیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

جبکہ اقوام متحدہ ،یورپی حکومتیں اور واشنگٹن گویا وہ سب بہرے ، اندھے اور گونگے ہیں،دوسری طرف جب یمنی فریق جارحین کو ان کی فوجی اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے ذریعہ جواب دیتا ہے تو مغرب کی طرف سے کی مذمت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور یوروپی حکومتیں اس طرح کے رد عمل کی مذمت کرنے میں مقابلہ کرنے لگ جاتی ہیں اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر بار بار مطالبہ کرنے لگ جاتے ہیں کہ یمنیوں پر دباؤ ڈالا جائےکہ وہ سعودی عرب کے خلاف اپنی جارحیت ختم کریں۔

یمن میں امریکی مغربی ممالک کی منافقت کی آخری کڑی میں ہم نے دیکھا کہ سعودی جارحیت پسند اتحاد نے گذشتہ روز ایک نئی جارحیت کرتے ہوئے منبہ علاقہ میں واقع الرقو مارکیٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 12 یمنی شہری شہید اور 80 سے زیادہ دیگر زخمی ہوئے ، لیکن امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی برادری ، بین الاقوامی تنظیمیں اور منافقانہ مغربی حکومتیں اس جرم پر خاموش رہیں۔

یمنی مبصرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صعدہ کے بھیانک جرم کے ذریعہ مأرب میں سعودی ، اماراتی ، امریکی ، برطانوی اور صہیونیوں کے جارحانہ اتحاد کی شکست کا بدلہ لیا ہے،یہاں تک کہ ان میں شکست کی آگ جولائی میں صوبہ مأرب کے رواح ، رغوان ، مجزر ، رحبه اور ماهلیه اضلاع میں 450 سے زیادہ فضائی حملوں کے باوجود بھی خاموش نہیں ہوئی، مبصرین نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ، جنھوں نے صوبہ مأرب میں یمنی فوج کے حملوں سے واشنگٹن کے "تھکاوٹ اور عدم اطمینان” کی بات کی، کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئےزور دے کر کہا کہ اس طرح کے ریمارکس صعدہ میں سعودی اتحاد کو اپنے اندھے جرائم کو جاری رکھنے کے لئے سبز روشنی دکھانا ہے۔

ان ریمارکس کے جواب میں ، انصار اللہ کے سینئر رہنمامحمد علی الحوثی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھاکہ جب امریکی تھکاوٹ تب ختم گی جب یمن کے خلاف جارحیت ، محاصرے اور قبضے کا خاتمہ ہوجائے گا۔

 

مشہور خبریں۔

سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیاں صرف ایک دکھاوا ہے، جرمنی میں ہونے والی تحقیق نے اہم انکشاف کردیا

?️ 3 جولائی 2021جرمنی (سچ خبریں) سعودی عرب میں ہونے والی نئی تبدیلیوں کے حوالے

وزیر اعظم کا موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف ‘پائیدار نظام’ پر زور، سیلاب سے مزید 18 افراد جاں بحق

?️ 7 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں بدھ کے روز سیلاب سے مزید

ٹرمپ الیون ملاقات سے توقعات: تناؤ کو کم کرنا، چیلنجوں کا حل نہیں

?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں:  جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ اپیک سربراہی اجلاس

لاہور میں ہفتہ، اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

?️ 30 اپریل 2021لاہور (سچ خبریں)ملک بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس تیزی سے پھیل

تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو ملنے کا امکان

?️ 21 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان

سکیورٹی خدشات کے بعد امریکا کا اوسان بیس کا اضافی کنٹرول واپس لینے کا فیصلہ

?️ 12 دسمبر 2025سکیورٹی خدشات کے بعد امریکا کا اوسان بیس کا اضافی کنٹرول واپس

تحریک انصاف نے تعلیمی اداروں میں شفافیت اور ترقی کے لئے مختلف پروگرام شروع کئے ہیں: محمد سرور

?️ 15 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں) گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ تحریک

او آئی سی مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام:وزیر اعظم عمران خان

?️ 23 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں منعقد ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے