?️
سچ خبریں:رائے الیوم اخبار نےاپنے اداریے میں، ان وجوہات اور ان کے بعد سامنے آنے والے منظرناموں کا جائزہ لیا ہے جن کی وجہ سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکمرانوں نے یوکرین اور تیل کے بحران کے بارے میں بائیڈن سے بات کرنے سے انکار کیاہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکی میگزین "اٹلانٹک” کے ساتھ انٹرویو اور امریکی صدر جو بائیڈن کے خلاف دی جانے والی مضمر دھمکیوں کے بعد گزشتہ روز وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی کہ محمد بن سلمان بطور حکمران موجودہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے یوکرین کے بحران اور عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے سلسلہ میں پر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی درخواست کو مسترد کر دیا کیا۔
اس سلسلہ میں انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم نے اپنے نئے اداریے میں اس مسئلے پر توجہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خبر کے تجزیے میں بہت سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکمرانوں نے یوکرین کی جنگ کے بارے میں امریکی صدر سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس کا مطلب مشرق وسطیٰ خاص طور پر خلیج فارس کے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس اور چین نے عالمی نظام میں امریکی تسلط کو ختم کرنا اور کثیر قطبی دنیا کی تشکیل شروع کر دی ہے، ایک ایسی دنیا جہاں امریکہ اب نمبر ون طاقت نہیں رہا،تاہم متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکمرانوں نے یوکرین کے بحران میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کرنے کی کئی وجوہات ہیں:
1۔- پہلی وجہ یمن کی جنگ سے متعلق ہے، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب امریکہ کے اکسانے پر یمن میں تباہ کن جنگ میں داخل ہوئے جس کے بعد انھیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے واشنگٹن کی طرف سے کوئی تعاون نظر نہیں آتا، اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی اندرونی تنصیبات ہمیشہ یمنی میزائلوں کے نشانے پر رہتی ہیں۔
2۔دوسرا مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام اور ویانا مذاکرات میں اس پر معاہدے تک پہنچنے سے متعلق ہے۔
3۔اگلا مسئلہ محمد بن سلمان سے جو بائیڈن کی عدم توجہی سے متعلق ہے، جنہوں نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد سے بن سلمان کے ساتھ رابطہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
4۔چوتھا معاملہ متحدہ عرب امارات کو F-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے سے امریکہ کے انکار سے متعلق ہو سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب پر پابندیوں کے گہرے اثرات
?️ 8 جون 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار Ha’aretz کے مطابق غزہ میں 8 ماہ کی مسلسل
جون
الجزیرہ کی صحافی شیرین ابو عاقلہ کے قاتل کی شناخت منظر عام پر
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:تحقیقی دستاویز کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ الجزیرہ کی شہید
مئی
ایران اور پاکستان سے افغانیوں کا پہلا گروپ حج کے لئے روانہ
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:ایران اور پاکستان میں موجود افغان تارکین وطن کی ایک بڑی
جون
طوفانی بارشیں اور سیلابی صورتحال؛ پنجاب میں رین ایمرجنسی نافذ
?️ 17 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پنجاب
جولائی
جولانی فورسز کا سویداء میں دوبارہ داخلہ: افواہ یا حقیقت؟
?️ 18 جولائی 2025سچ خبریں: نورالدین البابا، جولانی حکومت کے وزارت داخلہ کے ترجمان، نے
جولائی
لبنان کے ساتھ معاہدے میں فتح کے آثار نظر نہیں آتے: اسرائیل
?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں: تل ابیب یونیورسٹی کے موشہ دیان ریسرچ سینٹر کے سینئر
جنوری
برآمدات کے سبب ملک میں پیاز کی قیمت 240 روپے کلو تک جاپہنچی
?️ 10 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے پیاز کی برآمدات پر
جنوری
افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کے مابین شدید جھڑپیں، درجنوں افراد ہلاک ہوگئے
?️ 2 اگست 2021کابل (سچ خبریں) افغان فورسز نے اتوار کے روز سڑکوں پر شدید
اگست