دیرالزور میں امریکی جرم اور سخت ردعمل کی ضرورت

دیرالزور

?️

سچ خبریں:جمعہ کی صبح امریکی بمبار طیاروں نے دہشت گردانہ اور غیر انسانی کاروائی کرتے ہوئے دیرالزور کے دو مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی اور دونوں علاقوں کو کافی نقصان پہنچا۔

جمعہ کی صبح امریکی بمبار طیاروں نے دیرالزور کے دو مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا، یہ حملہ اس ملک کے شمال مغرب میں حلب کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی بمبار طیاروں کے حملے کے ٹھیک ایک دن بعد ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ شام کے شمال مغرب میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد، جس میں بہت زیادہ نقصان ہوا اور اس کے بعد بعض ممالک نے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے اس ملک کو امداد بھیجی نیز اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مشاورت کے لیے متعدد پارلیمانی اور سیاسی وفود بھی شام آئے، اس کے علاوہ دمشق اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا،تاہم صیہونی ، امریکہ ، داعش اور شام میں تحریر الشام کی مربوط دہشت گردانہ کاروائیاں بھی شروع ہوئیں جو واشنگٹن – تل ابیب، داعش اور تحریر الشام کے غصے کو ظاہر کرتی ہیں۔

خبری ذرائع نے جمعہ کی صبح اعلان کیا کہ دیر الزور کے مشرق میں ہرابش محلے میں واقع غلہ جمع کرنے اور دیہی ترقی کے مرکز پر نامعلوم طیارے نے حملہ کیا جس سے یہاں آگ لگ گئی، اسی دوران بعض شامی ذرائع نے یہ بھی اعلان کیا کہ بعض نامعلوم جنگی طیاروں نے عراقی سرزمین سے مشرقی شام کے صوبہ دیر الزور کی طرف متعدد میزائل داغے اور پھر تھوڑی ہی دوری پر پرواز کرتے ہوئے الحسکہ محلوں کی آواز کی دیوار کو بھی توڑ دیا، اس کے ایک گھنٹے بعد امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اس جارحیت کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شام پر فضائی حملہ جمعرات کے حملے میں امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کے جواب میں کیا گیا، ریاستہائے متحدہ کے محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ خطہ میں اس ملک کی فوجی سینٹرل کمانڈ (Centcom)نے ان تنصیبات پر فضائی حملے کیے جو اس ادارے کے مطابق، مشرقی دیر الزور میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (مزاحمتی گروپ) سے وابستہ گروپ استعمال کرتے ہیں۔

پینٹاگون نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے مشرقی شام میں الحسکہ کے قریب امریکی اڈے پر ایک گروپ کے حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت اور پانچ دیگر فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد کیے گئے،جارحیت اور دہشت گردی کے اس عمل کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اعتراف کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے حکم پر ان اداروں کے خلاف فضائی حملہ کیا گیا جو شام میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ گروپوں کے زیر استعمال ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی صبح اسرائیلی بمبار طیاروں نے شمال مغربی شام میں حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جو زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے دوسرے ممالک کے انسانی امداد کے بہت سے طیاروں کی لینڈنگ کی جگہ ہے،اس سلسلے میں داعش دہشت گرد گروہ کے عناصر نے، جسے امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، شام کے شمال مغرب میں واقع شہر حماۃ کے نواحی علاقوں میں بھی 7 شہریوں کو ہلاک کر دیا جبکہ چند روز قبل اس دہشت گرد گروہ کے عناصر نے صوبہ حمص میں 50 سے زائد شامیوں کو ہلاک کر دیا تھا، یاد رہے کہ جمعرات کے روز حلب کے ہوائی اڈے پر صیہونی بمبار طیاروں کے جارحانہ حملے کے بعد اور دیر الزور پر امریکی بمبار طیاروں کے حملے سے قبل شام میں متحارب فریقوں کی مصالحت کے لیے روسی مرکز کے نائب نے امریکہ کی قیادت میں نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کی پروازوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی، ایڈمرل اولیگ گورینوف نے اعلان کیا کہ شام میں امریکی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ڈرونز اور طیاروں کی پروازوں سے متعلق خلاف ورزیوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، یوں 2023 کے آغاز سے اب تک ان میں سے 452 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دیر الزور پر امریکی بمبار طیاروں کے جارحانہ حملے کے بعد مزاحمتی گروہوں نے گزشتہ رات امریکیوں کے دو ٹھکانوں کو متعدد راکٹوں سے نشانہ بنایا،یاد رہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ عراق اور شام کے زمینی راستے کو دوبارہ کھولنے کے سخت خلاف ہیں، اس لیے وہ اس علاقے پر آئے دن حملہ کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ اس راستے کے دوبارہ کھلنے کو ایران، عراق، شام اور لبنان کی حزب اللہ کو زمینی راستے سے ملانے کا باعث اور اس کے نتیجہ میں صیہونیت مخالف اسلامی مزاحمتی محاذ کی مضبوطی میں اہم عنصر سمجھتے ہیں۔

اس دوران اہم نکتہ امریکی صیہونی بمبار طیاروں کی متواتر جارحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی فوج کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور ساتھ ہی ان جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہے،حالیہ برسوں میں اس طرح کی جارحیت کا کوئی سخت جواب نہیں دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ جارح شامی سرزمین پر جب چاہتے ہیں بمباری کرتے ہیں،شام کی فوج اور سیاسی حکام کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی مزاحمتی محاذ کی مدد سے ان جارحیت کے بارے میں بنیادی طور پر سوچیں اور پورے ملک میں مضبوط احتساب کے ساتھ سلامتی قائم کریں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی جنگجوؤں نے مجدو جیل میں فلسطینی قیدیوں پر کیا حملہ

?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:   فلسطینی قیدیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کا

اسرائیلی حراست میں ہمیں تشدد اور حملے کا نشانہ بنایا گیا: فرانسیسی کارکن

?️ 26 مئی 2026 سچ خبریں: فرانسیسی کارکن لطیسیا مرل، جو عالمی استقامت فلوٹیلہ (Freedom

طیبہ گل الزامات: ڈی جی نیب کی پی اے سی میں طلبی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر

?️ 13 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)طیبہ گل کی جانب سے ہراسگی کے سنگین الزامات پر

امریکی قومی سلامتی کونسل میں وسیع پیمانے پر برطرفیاں اور تبدیلیاں؛ وجہ ؟

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: روئٹرز کے مطابق، پانچ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ

صیہونی حکومت میں غیر ضروری دفاتر بند

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں:اخبار نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن

غزہ جنگ کے نتائج پر اسرائیل کی سرکاری رپورٹ؛ اندرونی تقسیم کو وسیع کرنے کے لیے بین الاقوامی تنہائی

?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: تل ابیب یونیورسٹی سے منسلک اسرائیلی مرکز برائے داخلی سلامتی

ٹیکسٹائل، زراعت پر ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کا مطالبہ

?️ 14 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی ادارے  نے مطالبہ کیا ہے کہ

امریکا کے لیئے اب افغانستان سے بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں

?️ 13 مارچ 2021(سچ خبریں) بائیڈن انتظامیہ نے افغان امن عمل میں آنے والے ڈیڈ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے