?️
سچ خبریں:تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملے رکنے کے بعد کشیدگی بحیرۂ احمر اور باب المندب تک پہنچ گئی ہے، جہاں یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی امریکہ کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہے۔
ایران پر امریکی حملے فی الحال رکے ہوئے ہیں، تاہم کشیدگی اب بحیرۂ احمر اور باب المندب تک پہنچ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے، جبکہ باب المندب کی ممکنہ بندش عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
باب المندب کو آبنائے ہرمز کے بعد دنیا کی دوسری اہم ترین بحری گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس راستے پر جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یمن کی انصار اللہ تحریک نے ابتدا میں سعودی جہازوں کی آمدورفت روکنے کے اقدامات کیے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں سعودی عرب نے یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ کیا، جس کے جواب میں یمنی فورسز نے آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ "محاصرے کے جواب میں محاصرہ” کی حکمت عملی پر عمل درآمد میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جازان اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات پر متعدد میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی حملوں کے باوجود یمنی فورسز کے مؤقف میں نرمی نہیں آئی، بلکہ ان کی عسکری کارروائیوں میں مزید شدت دیکھی گئی۔
امریکی جنگی حکمت عملی پر خدشات
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی بیانات میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق وہ طویل المدت جنگ کے نتائج پر تشویش رکھتے ہیں۔
سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔
اسی رپورٹ کے مطابق، دونوں عہدیداروں نے طویل جنگ کی صورت میں امریکی فوجی ذخائر پر پڑنے والے دباؤ سے خبردار کیا، جبکہ پینٹاگون کے ایک ذریعے نے بتایا کہ فوجی کارروائیاں اس وقت "عارضی توقف” کی حالت میں ہیں۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر ایران کے ساتھ جنگ میں مزید توسیع سے گریز کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق، اس فیصلے کے پیچھے دفاعی ذخائر میں کمی، خلیجی اتحادیوں کی ممکنہ دوری، توانائی کی عالمی رسد اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات جیسے عوامل شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض اوقات یہ 102 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔
اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر نے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹرمپ سفارتی راستے پر زور دے رہے ہیں، تاہم ایران میں امریکی وعدوں اور معاہدوں پر اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔


مشہور خبریں۔
پنجاب کو منشیات سے پاک کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ عظمی بخاری
?️ 5 اپریل 2026لاہور (سچ خبریں) وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ
اپریل
ہم یمنی حملوں کو روکنے میں ناکام رہے؛صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:اسرائیلی ویب سائٹ Aurora Israel نے اعتراف کیا ہے کہ
مارچ
مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات کا آغاز
?️ 17 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی
جنوری
داعش کا سربراہ امریکی فورسز کے حملے میں مارا گیا: جو بائیڈن کا دعویٰ
?️ 5 فروری 2022سچ خبریں:امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے شمال مغربی
فروری
امریکی میڈیا غزہ کے بھوکے اور زخمی بچوں کے درد پر کیوں خاموش ہے؟
?️ 12 مئی 2025 سچ خبریں:غزہ کے معصوم بچوں پر ہونے والے مظالم، بھوک اور
مئی
کراچی کیلئے بجلی 5 روپے 13 پیسے سستی کرنے کی منظوری
?️ 11 نومبر 2022کراچی: (سچ خبریں) نیپرا نے کراچی کے لیے ستمبر کے ماہانہ فیول
نومبر
عراقی عوام کا سویڈن کو سبق
?️ 20 جولائی 2023سچ خبریں: عراق میں سویڈن کے سفارت خانے پر حملہ مقدس کتابوں
جولائی
اسرائیل کبھی بھی حزب اللہ کو تباہ نہیں کر سکے گا
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن
اکتوبر