ترکی کے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کے محرکات کیا ہیں؟

ترکی

?️

سچ خبریں:ترکی اور صیہونی حکومت کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کے پیش نظر تعلقات کو معمول پر لانے کی اصطلاح کا استعمال زیادہ درست نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات ختم ہی نہیں ہوئے تھے۔
اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان اور اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ان اہم واقعات میں سے ایک تھی جس نے ترک اور علاقائی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

رپورٹ کے مطابق اردگان اور ہرزوگ نے ٹیلی فون کال کے دوران دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا، اردگان نے مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے میں ترکی اسرائیل تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دوطرفہ اور علاقائی مسائل پر باہمی افہام و تفہیم سے اختلافات کم ہوں گے۔

ترک صدر نے خطے میں امن کی ثقافت، مفاہمت اور بقائے باہمی، اسرائیل فلسطین تعلقات کی توسیع اور امن عمل کے آغاز جیسے تصورات پر بھی زور دیا اور کہا کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان بات چیت اور تعلقات کا تسلسل دونوں فریقوں کے مفادات کی بنا پر برقرار ہے۔

واضح رہے کہ بدلے میں صیہونی حکومت نے مذاکرات کے ماحول کا مثبت اندازہ لگایا، ہرزوگ نے ترکی اور اسرائیل کی امن، دوطرفہ تعلقات اور خطوں سے متعلق مسائل پر جامع مذاکرات جاری رکھنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور یہ کہ رابطے اور مشاورت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

یادرہے کہ چند روز قبل استنبول کے چملیجا ٹاور سے ایک اسرائیلی جوڑے کو ترک صدر رجب طیب اردگان کی رہائش گاہ کی جاسوسی اور تصاویر بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک خصوصی ٹیلی فوٹو لینس کیمرے کے ساتھ اردگان کی رہائش گاہ کو زوم کیا تھا،تاہم ایک مختصر سودے کے بعد دونوں کو رہا کر دیا گیا اور وہ مقبوضہ علاقوں میں واپس آ گئے۔

واضح رہے کہ نفتالی بینیٹ نے اس جوڑے کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے ترکی کے ساتھ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ترکی کے ساتھ مشترکہ کوششوں کے بعد، مورڈیکی اور نٹالی او کونر کو رہا کیا گیا اور وطن واپس لوٹا دیا گیا،ہم ترک صدر اور حکومت کا ان کی کوششوں اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہم اس جوڑے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

ٹوئٹر کی جانب سے یوٹیوب کے ٹکر کی ایپ متعارف کرائے جانے کا امکان

?️ 28 اپریل 2024سچ خبریں: اطلاعات ہیں کہ مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب

بحیرہ احمر میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بھارتی وزیر خارجہ کی تشویش

?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں:ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر، نے اپنے ایرانی ہم منصب

تہران ریاض تعلقات میں بہتری چین کی سفارتی فتح ہے: سی بی ایس

?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:سی بی ایس نیوز نے چین میں ایران کے وزیر خارجہ

حزب اللہ کے ڈرون حملوں نے صیہونی دفاعی نظام کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں: نیویارک ٹائمز

?️ 5 جون 2026سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے مطابق حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرون حملوں

ایران کی صبورانہ حکمتِ عملی سب سے طاقتور ہتھیار ہے:اسرائیلی تحقیقاتی ادارہ

?️ 7 اکتوبر 2025ایران کی صبورانہ حکمتِ عملی سب سے طاقتور ہتھیار ہے:اسرائیلی تحقیقاتی ادارہ

2000 غیر ملکی دہشت گردوں کے ہاتھوں شامی عوام کا قتل عام

?️ 12 مئی 2025سچ خبریں: شام کے صوبہ لاذقیہ کی جانب توجہ مرکوز ہو گئی

ٹرمپ کی اپیل پر نظرثانی 

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:گزشتہ روز، امریکی سپریم کورٹ نے کولوراڈو ریاست کے پرائمری انتخابات

غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا بیان

?️ 19 نومبر 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے واشنگٹن پوسٹ کے دعوے کی تردید کرتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے