?️
سچ خبریں: ترکی کی صورتحال بالخصوص معیشت کے شعبے میں ان دنوں علاقائی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے اور اس ملک کے مستقبل کے بارے میں نقطہ نظر تقریباً مایوس کن ہے لیکن ان تصورات کو کس حد تک قریب سمجھا جا سکتا ہے اور کیا اس کے لیے کوئی راستہ موجود ہے؟ ترکی ان مشکل گردنوں کو عبور کرے گا؟
ترکی کی موجودہ صورتحال کے سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے 2001 سے کم از کم 2015 تک، 21 ویں صدی کے اوائل میں ملکی معیشت کی چوٹی پر نظر ڈالنی چاہیے جب ملک باہمی تعامل پر مبنی متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت، کامیاب سیاحت کو فروغ دے رہا تھا پروگرامز اور ملک نے علاقائی ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے لیے سیریل پروڈکشن ہب بننے میں ایک بڑی چھلانگ کا تجربہ کیا۔
ترکی نے بھی ان سالوں کے دوران 6% اقتصادی ترقی کا تجربہ کیا اور کم از کم خطے کے لیے اقتصادی ترقی کا ایک کامیاب ماڈل بن رہا تھا اور اس نے اپنے سنہری دور کا آغاز کر دیا تھا۔
یہ خطے کے بہت سے ممالک کے لیے برآمدات کا ذریعہ بن گیا، روس سے سعودی عرب اور ایران تک لباس سے لے کر کھانے تک اور یہاں تک کہ آہستہ آہستہ خطے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں میں داخل ہونا اور بلاشبہ سیاہ براعظم کے بارے میں انقرہ کے نظریے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
کچھ کا خیال ہے کہ یہ ترقی پسند پالیسیاں حسابی منصوبہ بندیوں اور قطعی حساب کتاب کا نتیجہ ہیں اور کچھ خاص علاقائی حالات کا نتیجہ ہیں، عرب تحریکوں کے ظہور کے بعد اور مختلف کشیدگیوں، جیسے لبنان اور شام سے دہشت گردی کے خلاف خطے کا تنازعہ۔ جیسا کہ عراق کے بارے میں جانا جاتا ہے، یہ ترکی کے لیے کچھ علاقوں کی اجارہ داری بن گیا، لیکن یہاں جو سوال زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ کن عوامل کی وجہ سے یہ عمل رک گیا اور بعض اوقات پسپائی بھی اختیار کر لی؟
– کچھ لوگ 2015 کے وسط سے لے کر اب تک کی آمرانہ پالیسیوں کو ترک معیشت کو سست قرار دیتے ہیں اس نقطہ نظر کے مطابق شرح سود اور ڈالر کو لیرا کے مقابلے میں ہیر پھیر کرنے جیسی بعض پالیسیوں کو ترکی کی اقتصادی ترقی پر خاصا اثر انداز سمجھا جاتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے اقتصادی ترقی میں کمی آئی ہے اس حد تک کہ 2016 سے برابری کی شرح تین گنا سے زیادہ ہو گئی ہے یعنی ہر ڈالر 3 لیرا سے بڑھ کر 8.9 لیرا ہو گیا ہے۔
گرنے کے رجحان کو روکنے کے لیے ترک حکومت نے غیر ملکیوں کو جائیداد اور زمین فروخت کرنے کا منصوبہ بھی ایجنڈے پر رکھا جس کے ساتھ خصوصی مراعات جیسے کہ شہریت کی فراہمی ترکی کے ہمسایہ ممالک کے بہت سے شہریوں کے لیے ایک پرکشش منصوبہ جس کا خیر مقدم کیا گیا لیکن حتمی اعداد و شمار جس کا ابھی تک ترک حکومت نے اعلان نہیں کیا ایسا کچھ نہیں ہوسکا جس سے معاشی خلا پُر ہو۔


مشہور خبریں۔
صیہونیوں کے جرائم کے خلاف یہودی تنظیم کا انکشاف
?️ 16 مئی 2021سچ خبریں:ایک یہودی گروہ نے غزہ میں صیہونی جنگی جرائم کو بے
مئی
غزہ کے خلاف جنگ اور محاصرہ کا مطلب ہماری موت : صہیونی اسیر
?️ 26 مارچ 2025سچ خبریں: القسام بریگیڈز نے کل رات غزہ کے خلاف جنگ کی شروعات
مارچ
نوبل یافتہ ماہرینِ معاشیات کا نیتن یاہو کے نام خط اسرائیلی معیشت تباہی کے دہانے پر
?️ 18 اگست 2025نوبل یافتہ ماہرینِ معاشیات کا نیتن یاہو کے نام خط اسرائیلی معیشت
اگست
جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوگا تو آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی
جون
دنیا کے38 ممالک میں اومیکرون وائرس پہنچ چکا ہے: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن
?️ 4 دسمبر 2021سچ خبریں:ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے جمعے کے روز کہا
دسمبر
دنیا میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، اہل غزہ نے واضح لکیر کھینچ دی۔ سراج الحق
?️ 16 جون 2025لاہور (سچ خبریں) سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی مجلس
جون
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کے خلاف آزاد کشمیر میں احتجاجی دھرنا دیا گیا
?️ 31 مارچ 2021مظفرآباد(سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کے خلاف
مارچ
غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان سے اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا
?️ 26 اگست 2025غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان سے اسرائیل کو سنگین نتائج کا
اگست