ایک بھولی بسری جنگ

جارحیت

?️

سچ خبریں:جنین بھولی ہوئی لڑائیوں کی علامت ہے،جنین یا کسی بھی بھولی ہوئی جارحیت کو یاد کرنا، مزاحمت کی ایک شکل ہے۔
20 سال قبل 3 اور 17 اپریل 2002 کے درمیان صیہونی حکومت کی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ کو زمین بوس کر کے 50 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 13 ہزار کو بے گھر کر دیا، امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر، سیاسی کارکن اور آزاد صحافی جینیفر لوونسٹائن نے اس مسئلے اور اس قتل عام پر میڈیا کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مارچ 2002 کے آخر میں جب دوسرا انتفاضہ اپنے عروج پر پہنچا تو اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہروں اور دیہاتوں کے خلاف دفاعی ڈھال آپریشن شروع کیا،یہ آپریشن 1967 کے بعد ان سرزمین میں سب سے بڑا فوجی آپریشن تھا۔

انہوں نے لکھا کہ صہیونی فوج نے رام اللہ، طولکرم، قلقیلیہ، نابلس، بیت لحم اور جنین پر حملہ کیا،کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی نیتنیا شہر کے پارک ہوٹل میں ہونے والے بم دھماکے کا براہ راست ردعمل تھا جس میں 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے، صیہونیوں کے دفاعی ڈھال آپریشن کا مقصد مغربی کنارے کے اہم آبادی کے مراکز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا تھا۔

3 سے 17 اپریل 2002 تک اسرائیلی فوج نے اس وقت کے وزیراعظم ایریل شیرون کے حکم پر جنین پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا تاکہ اس شہادت طلبانہ بم دھماکے کے ذمہ دار کو تلاش کیا جا سکے جو درحقیقت اس کیمپ کی تباہی اور دوسرے شہروں پر حملہ ایک انفرادی فعل کی اجتماعی سزا تھی جو کم از کم دو ہفتے تک جاری رہی، صیہونی حکومت کی افواج نے 150 ٹینکوں، بکتر بند جہازوں، جنگی ہیلی کاپٹروں اور F-16 لڑاکا طیاروں، 2 پیادہ بٹالین، کمانڈو ٹیموں اور 12 بکتر بند بلڈوزروں کے ساتھ ایک شدید شہری لڑائی میں اس کیمپ کو تباہ کر دیا،اس لڑائی میں 52 فلسطینی شہید اور 23 صیہونی فوجی مارے گئے۔

اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شہید ہونے والے 52 فلسطینیوں میں سے 22 عام شہری تھے، اس قتل عام پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران، فلسطینی باشندوں نیز فلسطینی اور غیر ملکی صحافیوں اور دیگر جو اس کیمپ سے باہر تھے، انہوں نے اس کیمپ کے گھروں پر جنگی ہیلی کاپٹروں سے سینکڑوں راکٹ فائر ہوتے دیکھا، اس کے ساتھ 4 سے 17 اپریل تک آئی ڈی پی کیمپ اور اس کے مرکزی ہسپتال کے ارد گرد سخت محاصرے کا مطلب یہ تھا کہ باہر کی دنیا کو یہ جاننے کا کوئی حق نہیں تھا کہ کیمپ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

کابل سے یوکرائنی طیارہ اغوا ہونےکی تردید

?️ 24 اگست 2021سچ خبریں:یوکرین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اولیگ نیکولینکو نے ان خبروں

عراق کے صوبہ الانبار میں داعش کے خفیہ ٹھکانے تباہ

?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ الانبار کے صحرائی علاقوں میں

فیس بک اور انسٹاگرام کا طالبان کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:انسٹاگرام اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کی سربراہی میں

سعودی عرب میں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے: وزیر خارجہ

?️ 12 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے

اسرائیل کے سابق ریٹائرڈ جنرل نے غزہ میں اسرائیلی ناکامی کے بارے میں اہم اعتراف کرلیا

?️ 25 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیل کے ایک سابق ریٹائرڈ جنرل نے غزہ

اقتصادی سروے رپورٹ جاری

?️ 9 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ

ٹرمپ کے بارے میں روسی فلاسفر کی انتہائی اہم پیشگوئی

?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں:روس کے معروف فلسفی اور مفکر، الکساندر دوگین نے امریکی سیاست

حلب جنگ میں اردگان کی موقع پرستی؟

?️ 29 نومبر 2024سچ خبریں: 2018 میں جب تہران میں آستانہ سربراہی اجلاس منعقد ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے