امریکی ہیگمونی کا زوال؛ جان مرشیمر کا تشویشناک تجزیہ

امریکی

?️

سچ خبریں: بین الاقوامی تعلقات کے معروف اسکالر جان مرشیمر نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ہم امریکی سلطنت کے زوال کے گواہ ہیں، لیکن یہ زوال بیرونی نہیں بلکہ داخلی ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کو بیرونی خطرات سے زیادہ اندرونی کمزوریوں نے گھیرا ہے، جس کی وجہ سے اس کی عالمی قیادت کی حیثیت مجروح ہو رہی ہے۔
سلطنت کی غرور اور سفارتی ناکامی
مرشیمر کے مطابق، امریکہ کی امپیریلسٹ ہَوَس اور نااہل سفارت کاری اس کے زوال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف یورپی اتحادیوں کو واشنگٹن سے دور کر رہا ہے بلکہ یکطرفہ فوجی پالیسیوں کو بھی جنم دے رہا ہے، جس سے امریکہ کی عالمی پوزیشن مزید کمزور ہو رہی ہے۔
روایتی طاقت کے اشارے ماند پڑتے
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جو قواعد پر مبنی عالمی نظام قائم کیا تھا، آج اس کی قانونییت سوال کے دائرے میں ہے۔ نہ صرف دنیا کے بہت سے حصوں نے واشنگٹن کی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، بلکہ مشرقی طاقتیں اب متوازی عالمی ڈھانچے تعمیر کر رہی ہیں جو امریکہ کے یک قطبی نظم کو للکار رہے ہیں۔
سختی کی پالیسی اور فوجی ہیگمونی کا زوال
امریکہ اب سخت طاقت اور فوجی قوت پر انحصار کرتا ہے، جبکہ نرم طاقت اور بین الاقوامی تعاون کو نظرانداز کرتا ہے۔ 80 سے زائد ممالک میں قائم 700 سے زیادہ فوجی اڈے اور دس بڑی طاقتوں کے برابر دفاعی بجٹ کے باوجود، امریکی فوجی مداخلت کی پالیسیوں نے مغربی اتحاد میں دراڑیں ڈال دی ہیں، جو مغربی ہیگمونی کے نیٹ ورک کے انہدام کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔
معاشی طاقت کا انخلاء اور کثیر قطبی نظام کا عروج
امریکہ کا عالمی صنعتی پیداوار میں حصہ مسلسل گر رہا ہے، جبکہ چین سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔ یہ معاشی طاقت کا انخلاء درحقیقت امریکی بالادستی کے زوال کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی نظام تیزی سے یک قطبی سے کثیر قطبی کی طرف سفر کر رہا ہے، جہاں چین، روس، بھارت اور دیگر ایشیائی طاقتیں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہی ہیں۔
اتحادیوں کا اعتماد کا بحران
امریکی پالیسیوں نے روایتی اتحادیوں میں سخت بے اعتمادی پیدا کی ہے۔ "فائیو آئیز” اتحاد کے ستون امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معلومات کے تبادلے میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ یہ صورتحال ممالک کو سٹریٹجیک خودمختاری، کثیر جہتی معاشی تعاون اور امریکی انحصار میں کمی کی طرف راغب کر رہی ہے، جس سے ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت کو خطرہ لاحق ہے۔
بین الاقوامی قانون کو للکارنا
مرشیمر کے مطابق، امریکہ قومی خودمختاری کے تصور کو پامال کر رہا ہے۔ گرین لینڈ جیسے معاملات پر تنازعات اور غیر ماہر افراد کو سفارتی عہدوں پر تعینات کرنا بین الاقوامی قانونی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس رویے نے امریکہ کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کو مجروح کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تنازعات میں اضافے کا خطرہ ہے۔
نتیجہ: خودکشی کی طرف سفر
جان مرشیمر کے تجزیے کے مطابق، امریکہ اپنی "سلطنت کی غرور” اور "سفارتی نااہلی” کی وجہ سے تیزی سے عالمی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ "ایک پاگل ہیجیمون” کی مانند برتاؤ کر رہا ہے، جو نہ صرف اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ 1945 سے قائم مغربی سلامتی کے نظام کے انہدام کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی جرائم کا سلسلہ جاری

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت

حیفا پر خوفناک حملے کا منظر نامہ

?️ 8 اگست 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ حیفا پر کسی

ایم کیو ایم اراکین کا قومی اسمبلی میں بائیکاٹ

?️ 29 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین قومی اسمبلی صابر قائم خانی اور صلاح

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو طالب علموں کو بائیکس تقسیم کرنے سے روک دیا.

?️ 10 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو طالب علموں کو

سیگنل ایپ پر امریکی خفیہ معلومات افشاء ہونے کی تحقیقات جاری

?️ 26 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والتز کو یمن

سپیکر قومی اسمبلی نے جوڈیشل کمیشن ممبر کیلئے نام بھجوا دیا

?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل

وزیر اعظم نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے احکامات جاری کر دئے

?️ 15 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میگھن مارکل کے حوالے سے اہم بیان جاری کردیا

?️ 18 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میگھن مارکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے