سجل علی شہرہ آفاق ناول ’امراؤ جان ادا‘ پر بننے والی سیریز میں کاسٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) مقبول اداکارہ سجل علی کے شائقین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ جلد ہی اپنی پسندیدہ اداکارہ کو اردو کے شہرہ آفاق ناول ’امراؤ جان ادا‘ پر بننے والی ویب سیریز میں دیکھ پائیں گے۔

جی ہاں، سجل علی جلد ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی کمپنی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویب سیریز میں کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی۔

شوبز ویب سائٹ ’ورائٹی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ’امراؤ جان ادا‘ پر بنائی جانے والی ویب سیریز کو حامد حسین اور محمد یقوب پروڈیوس کریں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’امراؤ جان ادا‘ پر بنائی جانے والی ویب سیریز کو ناول کے عین مطابق تیار کیا جائے گا اور اس میں ناول کے مکالمے بھی شامل کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق سیریز میں مرکزی کردار سجل علی ادا کرتی دکھائی دیں گی، تاہم ان کے ساتھ ایک اور اداکارہ کو بھی لیڈ کردار کے لیے کاسٹ کیا جائے گا، تاہم فی الحال دوسری اداکارہ کو کاسٹ نہیں کیا جا سکا۔

ویب سیریز میں پاکستان کے دیگر معروف اداکار بھی دکھائی دیں گے جب کہ اس میں بھارتی اداکاروں کو بھی کاسٹ کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ’امراؤ جان ادا‘ کو کب تک ریلیز کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ اسے آئندہ سال کے آغاز تک پیش کردیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہوگا کہ ’امراؤ جان ادا‘ پر کوئی ویب سیریز بنائی جا رہی ہو، اس سے قبل پاکستان اور بھارت میں مذکورہ شہرہ آفاق ناول پر متعدد ڈرامے اور فلمیں بنائی جا چکی ہیں۔

’امراؤ جان ادا‘ پر تقسیم ہند کے فوری بعد فلمیں بنانے کا آغاز ہوا، تاہم پاکستان میں 1972 میں اسی نام سے ہی فلم بنائی گئی، جس نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی، جس کے بعد 1981 میں ناول کے نام پر ہی بھارت میں فلم بنائی گئی، جس میں ریکھا نے مرکزی کردار ادا کیا۔

بعد ازاں 2006 میں بولی وڈ میں ’امراؤ جان‘ کے نام سے بھی فلم بنائی گئی، جس میں ایشوریا رائے نے مرکزی کردار ادا کیا۔

’امراؤ جان ادا‘ نامی ناول 1899 میں شائع ہوا، جسے مرزا ہادی رسوا نے لکھا تھا اور انہیں اس ناول نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔

ناول میں اسی دور کے ہندوستان اور خصوصی طور پر لکھنؤ شہر کی تہذیب، روایات اور ثقافت کو اچھے طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

ناول کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی ہے، جسے ناول میں اتنا دلکش اور حسین بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ لگتا ہے کہ وہ کہانی سچی ہوگی۔

ادب سے وابستہ افراد کہتےہیں کہ ناول افسانوی کہانی پر مبنی تھا، حقیقت میں کوئی ایسی طوائف نہیں تھی لیکن لکھاری نے کہانی کا اس انداز میں بیان کیا کہ لوگ امراؤ جان کو لکھنؤ کے چوک کے علاقے میں ڈھونڈنے آتے تھے۔

ناول میں یہ دکھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اس وقت طوائفوں کے کوٹھے تہذیب و تربیت کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے جہاں شرفا کے بچے تربیت کے لئے آتے تھے۔

مشہور خبریں۔

مسجد اقصیٰ کی اہمیت اور تاریخی تفصیلات

?️ 10 اپریل 2023سچ خبریں:مسجد اقصی ایک مقدس اور زمین پر اہم مقام کی حیثیت

صیہونی حکومت کا سردار سلیمانی کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف

?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:  امان نامی صیہونی حکومت کی فوج کی اینٹی انٹیلی جنس

تل ابیب کی الٹی گنتی شروع

?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں:  یمنی پارلیمنٹ کے رکن عبدالسلام جحاف نے انٹرنیٹ پر ایک

نفرت پر مبنی سیاست کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ سینیٹر عرفان صدیقی

?️ 17 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے

صیہونیوں کے درمیان اختلاف کی وجہ؟

?️ 12 اگست 2023سچ خبریں:ایسی حالت میں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول

قومی اسمبلی میں ایک بار پھر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا مطالبہ

?️ 25 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی اسمبلی میں اراکین کی جانب سے ایک بار

روس آخرکار پورے یوکرین پر قبضہ کر لے گا:ٹرمپ

?️ 4 اپریل 2023سچ خبریں:سابق امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس آخرکار

غزہ کے لیے امدادی ٹرک پر صیہونیوں کی وحشیانہ کارروائی؛ سی این این کی رپورٹ!

?️ 22 فروری 2024سچ خبریں: CNN نے ایک دستاویز شائع کی ہے جس میں انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے