خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے وزیراعظم کے بیان پر ردِعمل کا اظہار

خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے وزیراعظم کے بیان پر ردِعمل کا اظہار

?️

کراچی (سچ خبریں)معروف پاکستانی ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے وزیراعظم عمران کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے  ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے صرف ایک بیان دیا ہے اگر آپ ان کی رائے کو نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانیں، انہوں نے کوئی قانون تو نہیں بنایا۔

خلیل الرحمٰن قمر نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی  جس میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ سامنے آنے والے جنسی جرائم میں اضافے کے سوال پر اپنے  خیالات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  ’اگر آپ ٹوفی کو ریپر کے بغیر رکھیں زمین پر تو اس پر مکھیاں امڈ آئیں گی لیکن اگر آپ اسے ریپر میں ڈال کر رکھیں گے تو مکھیاں نہیں آئیں گی۔‘

انہوں نے جنسی جرائم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت ساری خواتین ہمارے ہاں مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں تو ایک ریپسٹ کی وجہ سے باقی سب کو برا نہیں کہہ سکتیں۔‘خلیل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ’ایک مفتی نے ذلالت کی، اگر ذلالت کی ہے باقی کے مفتیوں پر آپ انگلیاں نہیں اٹھا سکتے، اس مفتی کو آپ بھی گالی دیتے ہیں اور اسے میں بھی گالی دیتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ  ’وہ خود ایک لیبرل آدمی ہیں، ہم مرد پورے کپڑے پہن کر پھرتے ہیں تو ہمارے مردوں میں سے تو کبھی کسی نے ایسا اعتراض نہیں کیا۔‘خلیل الرحمٰن نے لباس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ستر ڈھانپنے کا حکم ناصرف عورتوں کے لیے بلکہ مردوں کے لیے بھی ہے۔‘

ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’آپ وہ بد نصیب اور بد بخت ہیں جو اپنے ہی دین پر اور اپنی ہی معاشرتی روایات پر فخر نہیں کرتے، تو آپ کے لیے راستے کھلے ہیں پلٹ کر واپس جائیں اور جنگلوں میں رہیئے پتے باندھیے یا بغیر پتے باندھے پھریئے، کوئی نہیں روکے گا آپ کو۔‘وزیراعظم کے بیان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے صرف ایک بیان دیا ہے اگر آپ ان کی رائے کو نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانیں، انہوں نے کوئی قانون تو نہیں بنایا۔‘

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا خواتین پر جنسی تشدد سے متعلق کہنا تھا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا۔اس سوال پر کہ کیا واقعی خواتین کے لباس کا چناؤ اُن پر جنسی تشدد کی وجہ ہے؟ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس معاشرے میں رہتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

پاکستان میں دہشتگردی کون کروا رہا ہے؟

?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں: پاکستان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم نے تاکید کی

عادل راجہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد، نام فورتھ شیڈول میں شامل

?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے یوٹیوبر عادل فاروق راجہ پر انسداد

پاکستان نے ہمیشہ امن کو جنگ پر فوقیت دی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 19 جون 2025کراچی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد

نوشکی اور پنجگور میں ہوئے حملے پر وزیر داخلہ کا رد عمل سامنے آگیا

?️ 3 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نوشکی اور

مزاحمتی تحریک کو کیا کرنا چاہیے اور عرب ممالک کیا کر رہے ہیں؟ عراقی مزاحمتی تحریک کے ایک عہدیدار کا انڑویو

?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں:عراق کی عہداللہ تحریک کے سکریٹری جنرل، سید ہاشم الحیدری نے

آزاد کشمیر میں معطل شدہ صدارتی آرڈیننس کے خلاف مکمل ہڑتال

?️ 6 دسمبر 2024 مظفر آباد: (سچ خبریں) متنازع صدارتی آرڈیننس کی منسوخی کے لیے

وفاقی کابینہ نے نیب کے نئے چیئرمین کے تقرر کی منظوری دے دی

?️ 21 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناللہ نے کہا ہے کہ

مقبوضہ علاقے کبھی بھی محفوظ نہیں رہیں گے: حزام الاسد 

?️ 25 ستمبر 2025سچ خبریں: یمن کی مسلح افواج کے کامیاب ڈرون حملے کے بعد انصاراللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے