اسکول کے اوقات میں چائلڈ اداکاروں کے ڈراموں میں کام پر پابندی کا آرڈیننس جاری

?️

کراچی: (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت 18سال سے کم عمر اداکاروں(چائلڈ اداکاروں) کے اسکول کے اوقات کار میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

آرڈیننس کو سندھ چلڈرن ڈرامہ انڈسٹری آرڈیننس 2023 کا عنوان دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد بچوں کے تعلیمی حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے اسکول کے اوقات کار میں ان کی ڈرامائی پرفارمنس میں شمولیت پر پابندی لگانا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ یہ آرڈیننس ایک بچے کی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دیگر سرگرمیوں کے لیے ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

آرڈیننس میں اس بات کی نشاندہی کی کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا اور گورنر اس بات پر مطمئن ہیں کہ موجودہ حالات میں فوری ایکشن لینا ضروری ہے۔

لہٰذا کامران ٹیسوری نے آئین کے آرٹیکل 128 کی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال کا آرڈیننس جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ پورے صوبے پر لاگو ہو گا اور ایک ساتھ نافذالعمل ہو گا۔

آرڈیننس میں 18 سال سے کم عمر کسی بھی لڑکے یا لڑکی کی بچے کے طور پر تعریف کی گئی ہے جبکہ ڈرامائی پرفارمنس کی تعریف ڈرامے، تھیٹر پروڈکشن، ٹیلی ویژن شوز، فلموں اور اداکاری یا پرفارمنس سے متعلق کسی دوسری سرگرمی کے طور پر کی گئی ہے۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ کسی بھی بچے کو اسکول کے اوقات میں کسی ڈرامائی پرفارمنس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کو کسی بھی طالب علم کو اجازت دینے یا اسکول کے باضابطہ اوقات کے دوران طلبا کی کسی ڈرامائی پرفارمنس کی توثیق سے منع کیا گیا ہے۔

تاہم اگر بچے کی کسی پرفارمنس کا تعلق براہ راست اسکول کے نصاب سے ہو تو ایسی صورت میں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے بھی پیشگی منظوری لینا ہو گی جبکہ اسکولوں کے ڈرامے یا اسکول کے باقاعدہ اوقات کار کے بعد طے شدہ ثقافتی پرفارمنس میں شرکت پر بھی استثنیٰ کا اطلاق ہو گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ آرڈیننس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ملوث افراد اور اداروں دونوں کو سزا دی جا سکتی ہے، سزا میں جرمانے، اجازت نامے کی معطلی یا حکام جو اقدامات مناسب سمجھیں وہ کیے جا سکتے ہیں۔

تعلیمی حکام، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کو آرڈیننس کے نفاذ کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس آرڈینس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تعلیمی اداروں کو ہدایات پہنچا دی جائیں۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کلچر مذکورہ آرڈیننس کو ثقافتی تنظیموں، پروڈکشن کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور اداروں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہوگا۔

مشہور خبریں۔

برکینا فاسو میں بغاوت پھر ناکام

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں: برکینا فاسو کے فوجی حکام نے کہا کہ برکینا فاسو

غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ جرائم پر مغرب کب تک خاموش رہے گا ؟

?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں:ہیومن رائٹس واچ کی بین الاقوامی تنظیم نے انسانی حقوق کے

کیا روس نے امریکہ اور جمہوریت کی توہین کی ہے؟امریکی عہدیداروں کی زبانی

?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی ایوان نمائندگان

امریکہ چین تجارتی جنگ میں شدت وائٹ ہاؤس ٹرمپ الیون مذاکرات کے لیے بات چیت کر رہا ہے

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: سی این این نے اعلان کیا: وائٹ ہاؤس امریکی صدر

ہیروشیما کے خلاف خوفناک امریکی جرائم کی 76 ویں برسی

?️ 7 اگست 2021سچ خبریں:امریکہ نے 76 سال قبل سب سے پہلے ایٹم بم کو

ٹرمپ پر مقدمہ چلایا گیا تو سڑکوں پر ہنگامے ہوں گے:ٹرمپ کا حامی ریپبلکن سینیٹر

?️ 30 اگست 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر کی حمایت کرنے والے ریپبلکن سینیٹر نے خبردار

یمنی جنگ بندی کی صورتحال

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:تجزیہ کاروں اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد

انڈونیشیا کا فلسطینی طلباء کو اسکالرشپ دینے کا اعلان

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: انڈونیشیا کے میڈیا نے اعلان کیا کہ فلسطینی عوام کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے