?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے متعلق بیان کو شوشا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ آئینی ترمیم ہوگئی تو فیڈریشن، سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور ہم اسے آئینی ترامیم نہیں بلکہ پی سی او کہیں گے۔
ڈان نیوز کےپروگرام ’’خبر سے خبر وِد نادیہ مرزا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ بلاول بھٹو تاریخ سے بالکل نابلد ہیں، قائد اعظم سے منسوب ان کا آئینی عدالت کا بیان شوشا ہے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک و ہند میں تو کورٹ کا وجود ہی نہیں تھا بلکہ اس وقت ’پِری وی کونسل‘ ہوا کرتی تھی جس کا وجود لندن میں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت قائد اعظمؒ نے قانونی معاملات کے حل کے لیے ’پِری وی کونسل‘ برصغیر میں قائم کرنے کی بات کی تھی نہ کہ کسی آئینی عدالت کے قیام کی، بلاول بھٹو کو کسی نے کہہ دیا ہوگا اور انہوں نے بول دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ قائداعظم نے سب سے پہلے وفاقی آئینی عدالت کی تجویز پیش کی تھی اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا۔
آئینی ترامیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ انہیں آئینی ترامیم ہوتی نظر نہیں آ رہیں کیونکہ تمام چیزیں اب مائنس ہوگئی ہیں اور بات اب یہ ہورہی ہے کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ آئینی ترمیم ہوگئی جیسا کہ حکومت چاہتی ہے، تو فیڈریشن ختم ہو جائے گی، سپریم کورٹ ختم ہو جائے گی اور چیف جسٹس کا عہدہ بھی ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ سو رہے ہیں، وہ نہیں دیکھ رہے کہ ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے، ہم اسے آئینی ترامیم نہیں بلکہ پی سی او کہیں گے۔
فواد چوہدری نے جے یو آئی(ف) کی مجوزہ ترامیم کو ’چالاکی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی(ف) نے ترامیم میں مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی اور ایکسٹینشن سے متعلق بھی ترمیم شامل کی ہے کہ یہ عمل پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، جے یو آئی کی اس ترمیم کو تسلیم کرنا مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے لیے مشکل ہے، اس صورتحال میں اگر مولانا کی نہیں مانی جائے گی تو وہ حکومت کی بھی نہیں سُنیں گے۔
15 اکتوبر سے اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) اجلاس اور اُسی روز ڈی چوک پر پی ٹی آئی احتجاج کی کال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس ہوتی رہے گی لیکن ہمارے لیے عمران خان اہم ہیں لہٰذا حکومت کو عقلمندی سے کام لیتے ہوئے معاملے کو سلجھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکنا چاہتی ہے تو اسے عمران خان سے ملاقات کے مطالبے کو تسلیم کر لینا چاہیے۔


مشہور خبریں۔
ماسکو پر 300 ڈرونز کا حملہ ناکام
?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں: سرکاری رپورٹس کے مطابق، یوکرین کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں
جولائی
آسٹریلیا کا صیہونی حکومت کے ساتھ خفیہ فوجی معاہدہ فاش
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی دفاعی کمپنی سے 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت
نومبر
شہریوں کو 25 اکتوبر تک اپنے ووٹ سے متعلق معلومات میں رد و بدل کی اجازت
?️ 29 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے
ستمبر
چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں: وزیراعظم
?️ 29 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چین
جنوری
اب احتجاج نہیں مزاحمت کریں گے‘ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کا اعلان
?️ 19 مارچ 2023کراچی: (سچ خبریں) وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم
مارچ
امریکی دارالحکومت میں فائرنگ، حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا
?️ 23 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی دارالحکومت کے ایک ریسٹوران میں مسلح فرد نے
جولائی
یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اہم قدم اٹھالیا
?️ 31 جولائی 2021برسلز (سچ خبریں) یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت
جولائی
افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 3 خارجی جہنم واصل
?️ 3 نومبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر
نومبر