?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سائفر کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ خفیہ کیبلز یا سفارتی مراسلہ سابق وزیراعظم عمران خان کے قبضے میں تھا اور وہ ان کے قبضے سے غائب ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ریمارکس چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے دیے جس نے عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی دوبارہ سماعت کی۔
اس سے قبل وکیل دفاع بیرسٹر سلمان صفدر نے وزارت خارجہ کی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں سائفر کی تقسیم کی تفصیلات موجود تھیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد سابق آرمی چیف اور چیف جسٹس سمیت تقریباً ہر شخص نے خفیہ دستاویزات واپس کر دی تھیں۔
جب اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ وزارت خارجہ سے وزیراعظم کے دفتر تک سائفر کی نقل و حرکت کی وضاحت کر رہے تھے تو اس دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ ’کیا ایف آئی اے، پراسیکیوٹنگ ایجنسی کے پاس کوئی ریکارڈ دستیاب ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ عمران خان نے سائفر اپنے قبضے میں رکھا۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی ریکارڈ موجود ہے جس سے ظاہر ہوسکے کہ پرنسپل سیکرٹری نے سائفر وزیر اعظم کے حوالے کیا؟
اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے جواب دیا کہ اُس وقت کے پرنسپل سکریٹری اعظم خان نے عدالت کے سامنے گواہی دی تھی کہ سائفر سابق وزیر اعظم خان کو دیا گیا تھا اور انہوں نے پھر کبھی واپس نہیں کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ سنی سنائی بات ہے، امکان ہے کہ سابق وزیر اعظم نے سیکرٹری کو سائفر واپس کرنے کی ہدایت کی ہو گی۔
تاہم حامد علی شاہ نے کہا کہ عدالت کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی کافی وجوہات ہیں کہ سابق وزیر اعظم نے سائفر وصول کیا اور پڑھا، جس کی بنیاد پر انہوں نے عوامی تقریریں کیں اور یہاں تک کہ امریکا کو ڈیمارش بھیجا تھا۔
جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’لیکن ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ اسے واپس نہیں کیا گیا؟‘
حامد علی شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیس کے گواہوں نے حلف لے کر کہا ہے کہ عمران خان نے کبھی بھی خفیہ دستاویز واپس نہیں کی، عوامی تقریر اور ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو کے دوران مسٹر خان نے خود اعتراف کیا کہ سائفر ان کے قبضے میں تھا۔
جسٹس اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سیاستدان ایسے بیانات ہجوم کو خوش کرنے کے لیے دیتے ہیں۔
بعدازاں انہوں نے وکیل سے کہا کہ وہ اعظم خان کے مبینہ اغوا کے حوالے سے درج ایف آئی آر کی پیشرفت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔
جسٹس عامر فاروق نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ 2 مئی تک ایف آئی آر کے حوالے سے چالان یا ڈسچارج رپورٹ پیش کریں۔


مشہور خبریں۔
زیلنسکی کو بائیڈن کی قانونی حمایت!
?️ 12 جولائی 2023سچ خبریں:کچھ دن پہلے، جو بائیڈن نے اپنے تازہ بیان میں ایک
جولائی
انگلینڈ کے ایک چرچ سے ایک سو بچوں کی لاشیں ملنے کا انکشاف
?️ 14 ستمبر 2022ویلز کے ایک چرچ میں کھدائی کے نتیجے میں سو سے زائد
ستمبر
اسرائیلی وزیر جنگ کی حماس کو ی خوفناک وارننگ
?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ
اگست
اقوام متحدہ کا افغان لڑکیوں کی تعلیمی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ
?️ 27 نومبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ماہرین نے افغان خواتین کی صورتحال پر تشویش
نومبر
306 یمنی قیدیوں کی رہائی کے بعد صنعاء آمد
?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:یمن اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے قیدیوں کے تبادلے
اپریل
مسافر بردار ڈرون متعارف کرا دیا گیا
?️ 19 مئی 2021برلن(سچ خبریں) ایک جرمن کمپنی وولوکاپٹر حقیقت کا روپ دینے والی ہے
مئی
یمنی فوج کی جنگی مشقیں
?️ 15 مارچ 2024سچ خبریں: یمنی فوج کے رینجر یونٹوں نے یمن میں امریکی اور
مارچ
ٹرمپ مردوں کے یو ایس اوپن ٹینس میچ دیکھتے ہوئے شائقین کی شدید تنقید کا نشانہ بن گئے
?️ 8 ستمبر 2025ٹرمپ مردوں کے یو ایس اوپن ٹینس میچ دیکھتے ہوئے شائقین کی
ستمبر