کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا، لڑنا جھگڑنا احتجاج نہیں۔ اعظم نذیر تارڑ

?️

لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا اور لڑنا جھگڑنا احتجاج نہیں کچھ اور ہے۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے صحافی نے استفسار کیا کہ احتجاج دونوں جانب سے ہوا لیکن معطل اپوزیشن ارکان ہوئے، حکومتی ارکان ذرا بھی نہیں ہٹے۔ وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ جہاں کوئی بھی اپنی لائن کراس کرتا ہے تو ہم انھیں سینٹر میں بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ غلط ہے۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج آپ کا حق ہے، لیکن کرسیاں مارنا، مائیک اکھاڑنا، لڑنا جھگڑنا یہ احتجاج نہیں کچھ اور ہے، میرے خیال سے قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین ہے اسپیکر صاحب نے جمہوری روایات کو زندہ رکھنے کےلیے ایسا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ گھر میں بھی بڑے کا رول ہوتا ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ہی کوئی بہتر راستہ نکالنا پڑتا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر تک 2 ارب ڈالر سے کم ہوجائیں گے، مفتاح اسمٰعیل

?️ 18 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے

پی ٹی آئی سرکس واپس آچکا ہے۔ مریم اورنگزیب

?️ 1 جون 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور

ہم نہ ہوتے تو اب تک ہندوستان اور پاکستان تباہ ہو چکے ہوتے:سابق امریکی وزیرخارجہ

?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہمائیک پومپیو   نے دعوی کیا ہے کہ کہ

ایران امریکا بات چیت خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کا باعث بنے گی

?️ 7 فروری 2026ایران امریکا بات چیت خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ

حماس لچک دکھا رہا ہے، تل ابیو رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے: لاپیڈ کا اعتراف

?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: یدیعوت اخرونوت کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست میں اپوزیشن جماعت

کیا حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ کیے وعدے پورے کرے گی؟

?️ 13 اگست 2024سچ خبریں: امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے

انسٹاگرام کا نیا فیچر متعارف

?️ 22 جون 2023سچ خبریں:سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام نے شائقین کی بڑی پریشانی کو

نیتن یاہو 2025 اور اس کے بعد کے سالوں میں بھی جنگ جاری رکھنے کا خواہاں

?️ 2 جنوری 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار Haaretz کے عسکری امور کے تجزیہ کار Amos Hareil

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے