کامران ٹیسوری نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

?️

سندھ: (سچ خبریں) کامران خان ٹیسوری نے 34ویں گورنر سندھ کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا جہاں سندھ کے 34ویں گورنر کو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مضبوط تعلقات، سیاسی وفاداریاں بدلنے اور سنہ 2018 میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان میں تقسیم میں مبینہ کردار پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

 سنہ 2018 میں ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والے کامران ٹیسوری کی ایک ماہ قبل پارٹی میں واپسی ہوئی تھی اور انہیں رابطہ کمیٹی کا ڈپٹی کنوینر مقرر کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کنوینر مقرر ہونے کے ایک ماہ بعد ہی انہوں نے گزشتہ روز سندھ کے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ نے محمد کامران ٹیسوری سے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف لیا، تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی کابینہ کے اراکین، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں، تاجروں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ وہ تمام توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’آئین پاکستان کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، صوبہ کے مسائل ہوں یا عوام کے مسائل، انہیں حل کرنے کے لیے ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھاؤں گا۔‘

کامران ٹیسوری نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت کے ساتھ اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیا، اُس وقت پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے اہم اتحادی سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم تھے، ارباب غلام رحیم نے سنہ 2004 سے 2007 تک وزیر اعلیٰ سندھ کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں، کامران ٹیسوری پاکستان مسلم لیگ(فنکشنل) کے دور حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہ کرنے کے باوجود اس دور کی ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

تاہم سنہ 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی (پی پی پی) کے دور حکومت میں کامران ٹیسوری کو ریئل اسٹیٹ اراضی اسکینڈل میں مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا، گرفتاری کے وقت کراچی سے بدین منتقل کیے جانے کے دوران کامران ٹیسوری مبینہ طور پر پولیس حراست سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے خلاف ایک اور مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اس کے بعد کامران ٹیسوی ایک کے بعد ایک کیس میں بَری ہوتے گئے اور فروری 2017 میں ایک بار پھر سیاسی میدان میں قدم جمائے اور ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت اختیار کرلی۔ ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کے ایک ہفتے کے اندر ہی انہیں رابطہ کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔

ایک اور حیران کن پیشرفت اس وقت ہوئی جب کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم پاکستان کے امیداوار کی حیثیت سے پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس-114 محمود آباد کے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا جس میں انہیں پیپلزپارٹی کے سعید غنی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

بعد ازاں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات پیدا کیے، جس کے بعد کامران ٹیسوری نے سنہ 2018 میں پارٹی سے علیحدگی سے اختیار کرلی تھی۔

تاہم کامران ٹیسوری کے معاملے پر اختلافات ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم سے نکالنے کا سبب بنے لیکن کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ پچھلے ماہ ایک اور حیران کن پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر اعلان کیا گیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مشہور خبریں۔

پلوامہ حملے سے متعلق انکشافات سے پاکستان کے مؤقف کی تائید ہوئی، وزیراعظم

?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو پلوامہ حملہ سیاسی

امریکہ اور اسرائیل غزہ کے ساتھ کیا کھیل کھلینے والے ہیں؟

?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں: ایک باخبر ذریعہ نے غزہ کے بے دفاع لوگوں کے

وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے صدر مملکت کو رپورٹ ارسال

?️ 24 اپریل 2022لاہور:(سچ خبریں) گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے صدر مملکت عارف علوی

بوریل: اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سابق سربراہ نے صیہونی

عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور

?️ 1 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان

گلوکار ابرار الحق کا اچھے وقت میں دوبارہ سیاست میں آنے کا عندیہ

?️ 17 دسمبر 2024 لاہور: (سچ خبریں) گلوکار و موسیقار ابرارالحق نے اچھے وقت میں

پاکستان بھارت سے جامع مذاکرات کے لئے تیار: اسحاق ڈار

?️ 31 جولائی 2025پاکستان بھارت سے جامع مذاکرات کے لئے تیار: اسحاق ڈار نیویارک میں

صہیونی وزیر کو ویزا جاری کرنے میں امریکہ کی ہچکچاہٹ

?️ 6 مارچ 2023سچ خبریں:Axios نیوز ویب سائٹ نے امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا حوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے