کاز لسٹ کی منسوخی، یہ کرنے کے بجائے میری عدالت کی بنیاد میں بارود رکھ کر اڑا دیتے، جسٹس اعجاز اسحٰق

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین کیس میں وکیل مشال یوسفزئی کی جیل سپرنٹینڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس سردار اسحٰق خان نے ریمارکس دیے کہ کیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہے؟ یہ کرنے کے بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے۔

ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین کیس میں وکیل مشال یوسفزئی کی جیل سپرنٹینڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر سماعت ہوئی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کازلسٹ منسوخ ہونے پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی 11 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اسلام آباد ہائیکورٹ سلطان محمود عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سے استفسار کیا کہ جو کچھ ہوا ہے کیا آپ اس میں ملوث ہیں؟ آپ نے کس کے کہنے پر کازلسٹ منسوخ کی۔

ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے کہا کہ ہمیں چیف جسٹس آفس سے ہدایات آئیں تھیں، چیف جسٹس آفس سے کہا گیا لارجر بینچ بن گیا ہے، اب اس کیس کی کازلسٹ منسوخ کردیں۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا کہ کیس منتقلی کے لیے یہ متفرق درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی؟ کیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہے؟ یہ کرنے کے بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے مزید کہا کہ ہم بنیادی سوالات ہی طے نہیں کرپاتے ہیں، ہر 10 سال بعد بنیادی اصولوں پر اسی مقام پر کھڑے ہو جاتے ہیں، ہم ترقی کیا کرتے ہیں، اس سے بڑی حماقت نہیں کہ قانون کی عملداری کے بغیر معیشت ترقی کرے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے کہا کہ یہ میری ذات یا میرے اختیارات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہائی کورٹ کی توقیر کا مسئلہ ہے، کیا اس طرح عوام کا نظام انصاف پر یقین رہے گا۔

شعیب شاہین نے کہا کہ اس کیس میں ریاست اور سپرٹینڈنٹ تو متاثرہ فریق بھی نہیں تھے، ہمیں کل کو کیا انصاف ملے گا، مشال یوسفزئی نے کہا کہ ہمارے ساتھ باہر یہ ہورہا ہے تو عمران خان اور بشری بی بی کے ساتھ جیل میں کیا کرتے ہونگے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے کہا کہ آپ وہ بات کررہی ہیں ہمیں تو اپنے ادارے کی فکر ہوگئی ہے، گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جارہا تھا، وہ اب ہماری طرف آرہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ کیا چیف جسٹس کے پاس ایک جج کے پاس زیرسماعت کیس اس کی مرضی کے بغیر دوسرے جج کو منتقل کرنے کا اختیار ہے؟ فرض کریں مستقبل میں ایک نہایت کرپٹ چیف جسٹس ہو تو اس کے پاس کیس اس طرح منتقل کرنے کا اختیار ہو گا؟ ایک پارٹی کے تین کیسز ہوں، چیف جسٹس کو درخواست دیں تو زیرسماعت کیس منتقل ہو سکتا ہے؟ کیا آپ کرپشن اور اقربا پروری کے دروازے کھول رہے ہیں؟

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے کہا کہ یہ انصاف کی عدالت کو گمراہ کرنے کے بھی مترادف ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ رولز میں نہیں ہے کہ جج کی مرضی کے بغیر چیف جسٹس کیس ٹرانسفر کر دے، آپ ایک چیز کو انا کا مسئلہ بنا کر جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہائیکورٹ کے بخیے ادھیڑ دے گا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے مزید کہا کہ ریاست نے اگر فیصلہ کر لیا ہے کہ انہوں نے انا کی جنگ جیتنی ہے تو میرا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر بڑے صاحب کی مرضی کہیں اور ہے تو وہ کہیں کہ میں کیس اپنے پاس لے لوں؟ بھلا جج رجسٹرار آفس کے مرہون منت ہے؟ آفس فیصلہ کرے گا کہ جج نے کیس سننا ہے یا نہیں سننا؟ کیا کازلسٹ فیصلہ کریگی کہ عدالت انصاف کیسے دے گی؟

ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس آفس سے ہدایت کے لیے معاملہ بھیجا، کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کا کہا گیا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا کہ لارجر بینچ جو کارروائی کر رہا ہے، اس عدالت کی کارروائی کی توہین میں کر رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کیس کی کازلسٹ منسوخ اور دوسرے بینچ کو منتقل کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے بھی جواب طلب کر لیا، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مشہور خبریں۔

کیا اسرائیل کی صرف مذمت ہونا چاہیے یا کچھ اور بھی؟

?️ 19 نومبر 2023سچ خبریں: ترک یونیورسٹی کی پروفیسر اور تجزیہ کار نے اس بات

جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز نے 190 مسافر بازیاب کرالیے، 30 دہشت گرد ہلاک

?️ 12 مارچ 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سیکیورٹی

بانی پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے تیار نہیں، مقتدرہ کو سیاسی شخصیات سے نہیں ملنا چاہئے۔ رانا ثناءاللہ

?️ 24 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے

قابضین کے لیے سیاہ دن انتظار کر رہے ہیں: فلسطینی استقامت

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:فلسطینی استقامتی گروپوں کے مشترکہ چیمبر نے صیہونی غاصبوں اور پناہ

صیہونیوں کے اعلان کردہ امن علاقوں میں سب سے زیادہ قتل عام

?️ 27 مئی 2024سچ خبریں: فلسطینی حکام نے ان علاقوں میں غیرمعمولی مکمل قتل عام

تمام عراقی فلسطین کی حمایت کرتے ہیں:عراقی وزیر داخلہ

?️ 27 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزیر داخلہ نے فلسطینی عہدیدار سے ملاقات کے دوران اس

24 گھنٹے میں 150 مرتبہ یمن جنگ بندی کی خلاف ورزی

?️ 6 ستمبر 2022سچ خبریں:یمنی خبر رساں ذرائع نے منگل کی صبح اطلاع دی کہ

دعا ہے رمضان اسلامی دنیا میں خیر و برکت اور سلامتی لے کر آئے۔ مریم نواز

?️ 18 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے