چیئرمین پی ٹی آئی کے بغیر منصفانہ انتخابات ہوسکتے ہیں، نگران وزیراعظم

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ عام انتخابات آئندہ سال ہوں گے اور جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور ان کے رہنماؤں کے بغیر منصفانہ انتخابات ممکن ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو دیے گئے انٹرویو میں نگران وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وہ ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے وہ سیاسی عمل کو چلائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

انوار الحق کاکڑ کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کچھ دن قبل ہی اعلان کیا تھا کہ ملک میں انتخابات اگلے سال جنوری میں ہوں گے جس کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ سابق وزیراعظم کی انتخابات میں کامیابی کو روکنے کے لیے فوج انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ انتخابات فوج نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا اور موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری خود چیئرمین پی ٹی آئی نے کی تھی تو وہ عمران خان کے خلاف کیوں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے گا تو ہماری حکومت انتخابات کے لیے ہر قسم کی مالی، سیکیورٹی اور دیگر مدد فراہم کرے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ عدلیہ سے عمران کی سزا کو کالعدم اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی سفارش کریں گے تو نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کروں گا اور کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد کے لیے عدلیہ کو بطور آلہ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ذاتی انتقام کی بنیاد پر کسی کا پیچھا نہیں کر رہے، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون پر عملدرآمد ہو، چاہے عمران خان ہو یا کوئی اور سیاستدان، جو بھی اپنے سیاسی رویے سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے گا تو قانون کی بحالی کو یقینی بنانا ہو گا، ہم اسے سیاسی تفریق سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ منصفانہ انتخابات عمران خان یا ان کی پارٹی کے ان سینکڑوں کارکنان کے بغیر ہو سکتے ہیں جنہیں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پارٹی کے وہ ہزاروں لوگ جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے، وہ سیاسی عمل کو چلائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

جمہوریت کو لاحق خطرات اور پاکستان میں حقیقی فوجی حکمرانی سے متعلق پی ٹی آئی کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ دعوے ہماری سیاسی ثقافت کا حصہ ہیں اور میں ان پر دھیان نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت فوج کے ساتھ بہت اچھے سے کام کررہی ہے، ہمیں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں اور میں اس سے انکار نہیں کر رہا لیکن عدم توازن کی مختلف وجوہات ہیں۔

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ موجودہ عسکری اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے سویلین اداروں کی کارکردگی کو بتدریج بہتر بنایا جائے کیونکہ اس سے ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے بغیر کوئی بھی الیکشن غیر آئینی، غیر قانونی اور غیراخلاقی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کا بیان آئین و جمہوریت اور ملکی مفادات کے حوالے سے ریاستی ڈھانچے میں پائی جانے والی عدم حساسیّت کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی اور وفاقی سطح پر عوام کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت ہے اور مقبولیت کے تمام معیارات کے مطابق عمران خان بلاشرکتِ غیرے ملک کے مقبول ترین سیاسی قائد ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نگران وزیراعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ عمران خان یا تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر کروایا گیا کوئی بھی الیکشن غیرآئینی، غیرقانونی اور غیراخلاقی ہوگا جسے عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ غیرمعمولی عوامی تائید کی حامل سیاسی قیادت اور جماعتوں کو مصنوعی، غیرجمہوری اور غیرآئینی طریقوں سے انتخاب سے باہر کرنے کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوا کرتے ہیں اور دستور، قانون، جمہوریت اور اخلاق نگران وزیراعظم کو سیاست و انتخاب پر اثرا انداز ہونے کے کسی غیرفطری، غیرجمہوری اور غیرآئینی منصوبے کا حصہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انوارالحق کاکڑ اپنے بیان کی فوری وضاحت کریں اور بطور نگران وزیراعظم اپنی حکومت کو جمع تفریق کے شرانگیز منصوبوں سے مکمل الگ کریں۔

مشہور خبریں۔

بندر حدیدہ میں طبی آلات کے گودام کو نشانہ بنانا

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:  یمن میں المیادین نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی اتحاد

ہیروئن کیسے وجود میں اور پھر اس پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

?️ 2 نومبر 2021لندن (سچ خبریں)کیا  آپ جانتے ہیں کہ ہیروئن کو  19ویں صدی کی

سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، باجوڑ میں خارجیوں کے ٹھکانوں کا مکمل صفایا

?️ 23 اکتوبر 2025راولپنڈی(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز کی باجوڑ میں خارجیوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری

آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے لیے تمام معاملات طے پا گئے ہیں، وزیر خزانہ

?️ 13 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے

آئی ایم ایف کا پھر سے "ڈو مور” کا مطالبہ

?️ 31 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کا پھر سے "ڈو مور” کا مطالبہ،

پائلٹوں سے لے کر موساد کے افسروں تک

?️ 19 اپریل 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت بڑھتے ہوئے مظاہروں کا مشاہدہ کر رہی ہے جو

یورپ میں امریکی فوج الرٹ

?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکی مسلح افواج کے سربراہ نے یوکرین میں روس کی حالیہ

اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایندھن کی ترسیل کی ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ

?️ 14 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک تاریخی بل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے