پی ٹی آئی اور مولانا اکٹھے ہو گئے تو حکومت 3، 4 ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی، فواد چوہدری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور مولانا اکٹھے ہو گئے تو حکومت 3، 4 ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چھوڑی نہیں، چھوڑ کر جانے والے واپس آ جاتے ہیں، ہم مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں ، ہماری کہانی ابھی آئی نہیں، کہانی ان کی آئی جو ٹی وی پر بات کر سکتے ہیں، ہماری باری آئے گی تو ہم اپنی کہانی سنائیں گے، آج ہم سارے 9 مئی کے کیسز کے سلسلے میں عدالت آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ تلخیاں کم ہوں، اللّٰہ آسانیاں پیدا کرے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی ساکھ نہیں یہ فارم 47 پر کھڑی ہے، اس وقت مولانا اور صوبہ خیبر پختونخوا ایک طرف کھڑے ہیں، میرا خیال ہے مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ حکومت ہٹے گی، اگر پی ٹی آئی اور مولانا اکٹھے ہوگئے تو یہ حکومت 3، 4 ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔

علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے چند بنیادی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں سے متفق ہونے کی اپیل کی ہے، انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ چند بنیادی اصلاحات پر متفق ہوں، جن میں پہلا نقطہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق کام کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اس لیے اس کی تشکیل نو کی جانی چاہیئے، سی ای سی پی کو ایک رسمی دفتر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، ای سی پی کے ہر ممبر سنیارٹی کے لحاظ سے ایک سال کے لیے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں، ادارے کو انفرادی شخصیات پر فوقیت دیں۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری پارلیمنٹ کرے لیکن برطرفی صرف ساتھی ججز کے ذریعے ہو، فیصلوں کے سالانہ جائزے کے لیے ایک کنڈکٹ کمیشن تشکیل دیا جائے اور اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی نامزدگی کنڈکٹ کمیشن کی منظوری کی درجہ بندی سے مشروط ہو، میئرز اور صوبائی فنانس ایوارڈ کے براہ راست انتخابات ہوں، ایکسٹینشن کا اختتام کیا جائے، کوئی بھی وزیراعظم دو ٹرم یا 10 سال کے لیے منتخب ہو، پارٹیوں میں جمہوریت لائی جائے، کسی کو نشانہ بنائے جانے کا عمل ختم کرنے کے لیے آزاد پراسیکیوشن ہو اور پراسیکیوٹر جنرل کو سپریم کورٹ کے جج کی طرح مقرر کیا جائے، اگر کوئی چاہے تو ان تجاویز میں اضافہ بھی کرسکتا ہے لیکن کم از کم ان کے ساتھ شروعات تو کریں۔

مشہور خبریں۔

غزہ اور لبنان کی جنگ میں فرانس کی دوغلی پالیسی

?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں:غزہ کی جنگ میں فرانسیسی صدر امانوئل میکرون پر متضاد پالیسی

وطن کی سلامتی شخصیات اور لیڈرشپ سے زیادہ اہم ہے۔ خواجہ آصف

?️ 4 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے

فلسطینی صحافی کے لیے اسماعیل ہنیہ کا پیغام

?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطینی صحافی

جنگ کے بعد صیہونی معاشرے کا نفسیاتی بحران ٹائم بم بن چکا ہے؛ صہیونی جنرل کا انتباہ

?️ 24 ستمبر 2026سچ خبریں:ریٹائرڈ صیہونی جنرل اسحاق برک نے جنگوں کے نتیجے میں صیہونی

اسرائیل نسل پرستی کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن: سویڈش سفارت کار

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:سابق سویڈش سیاست دان اور سفارت کار کارل بیلٹ نے حالیہ

پی ڈی ایم نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے، عمران خان کا دعویٰ

?️ 21 نومبر 2022لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران

78 فیصد امریکی ایران کے ساتھ جنگ کے فوری خاتمے کے خواہاں ہیں؛امریکی نیوز ایجنسی کا سروے

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:امریکی نیوز ایجنسی سی بی ایس کے سروے کے مطابق ۷۸

امریکہ کے ساتھ مذکرات کرنے کے بارے میں ایران کا اعلان

?️ 19 اپریل 2021سچ خبریں:ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے