?️
لاہور: (سچ خبریں) سیلاب نے مشرقی دریاؤں کے کنارے 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو ڈبو دیا ہے جس سےخریف کی فصلیں اور بالخصوص کپاس شدید متاثر ہوئی ہے، اس صورتحال نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 20 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، 2 ہزار دیہات ڈوب گئے جبکہ تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار افراد اور 5 لاکھ 16 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، سیٹلائٹ امیجری کے مطابق پنجاب کے 24 اضلاع میں 3 ہزار 661 مربع کلومیٹر (یعنی تقریباً 4.7 فیصد) رقبہ زیرِ آب ہے۔
کسان بورڈ پاکستان کے اختر فاروق میو نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کو کپاس، چاول، تل، مکئی اور چارہ جات کی تباہی کی وجہ سے 536 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کئی شہروں میں سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے جو آئندہ خوراک کے بحران میں بدل سکتی ہے۔
چاول کی فصل کے نقصان کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان بزنس فورم نے کہا ہے کہ وسطی اور جنوبی پنجاب میں چاول کی 60 فیصد فصل تباہ ہوگئی ہے، لیکن برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ باسمتی کے علاقے زیادہ متاثر نہیں ہوئے، صرف سیالکوٹ کا علاقہ پسرور متاثر ہوا ہے۔
ان کے مطابق دریائے ستلج کے کنارے نان باسمتی فصل زیادہ تر جولائی و اگست میں کاٹی جا چکی تھی، صرف کچھ ہائبرڈ اقسام کو نقصان پہنچا ہے۔
سیلاب سے چارے کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے جس سے لائیو اسٹاک انڈسٹری خطرے میں ہے، حالانکہ یہی شعبہ قومی جی ڈی پی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ غلے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا جس سے پاکستانی چاول عالمی منڈی میں مسابقت کھو سکتا ہے، کپاس کی فصل کی تباہی بھی تشویشناک ہے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق کپاس کی فصل شدید دباؤ میں ہے، پنجاب اور سندھ کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے علاقے بہاولنگر، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان یا تو زیرِ آب ہیں یا مزید بارشوں کے خطرے سے دوچار ہیں، کپاس کی کمی کے باعث کئی جننگ فیکٹریاں اور ملیں بند ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ بعض کپاس کی اقسام کو وائرس کا بھی سامنا ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے مطابق وسطی اور جنوبی پنجاب میں کپاس کی تقریباً 35 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے جبکہ صوبے کے سب سے بڑے کاٹن پروڈیوسنگ ضلع بہاولنگر میں یہ نقصان 40 سے 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب کا سرحدی مثلث میں بفر زون بنانے کا منصوبہ
?️ 13 جولائی 2025سوریہ کے داخلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ریاست سوریہ،
جولائی
مقبوضہ جموں وکشمیر: مزید 4کشمیری مسلمانوں کی املاک ضبط ، 2نوکریوںسے برطرف
?️ 11 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر
اپریل
ایران پر حملے کے لیے نیتن یاہو کو ٹرمپ کا صاف انکار؛نیویارک ٹائمز کا انکشاف
?️ 17 اپریل 2025 سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ
اپریل
غزہ اور مغربی کنارے میں تشدد کے ساتھ امریکہ اور یورپ کا دوہرا معیار
?️ 23 دسمبر 2023سچ خبریں: جب کہ غزہ میں تل ابیب کے مسلسل جرائم سے
دسمبر
ایرانیوں نے ایک بار پھر امریکہ کو شیطان کا مظہر قرار دیا:روئٹرز
?️ 6 نومبر 2022سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران میں عالمی استکبار کے خلاف قومی دن
نومبر
انصاراللہ کے بارے میں امارات کی امریکہ سے درخواست
?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان
جنوری
سعودی عدالتی نظام اور حالیہ برسوں کے غیر منصفانہ فیصلوں پر ایک نظر
?️ 14 ستمبر 2021سچ خبریں:سعودی حکومت سے وابستہ انتہا پسند ججوں کی نسل کو پروان
ستمبر
صہیونی جنگی کابینہ کا جنگ بندی کی تجویز پر حماس کے ردعمل کا جائزہ
?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:پیرس معاہدے کے مجوزہ فریم ورک پر حماس کے ردعمل کا
فروری