?️
اسلام آباد: (سچ خبریں)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر حکومتی اتحاد کے بائیکاٹ کے بعد درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 7:30 بجے تک سنائے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز فل کورٹ بینچ کے لیے حکومتی اتحاد کی درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج حال ہی میں ہونے والے وزیر اعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب سے متعلق درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کی رولنگ پر دلائل سنے جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں فاتح قرار دیا گیا تھا۔
پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی کارروائی میں مزید حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کی جانب سے فل بینچ تشکیل نہ دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔
قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی عدالتی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔
سماعت ساڑھے 11 بجے کے بعد شروع ہوئی، حکمراں اتحاد نے کہا کہ وہ احتجاجاً کارروائی کا بائیکاٹ کرے گی جبکہ دونوں فریقین کے وکلا پہلے ہی عدالت پہنچ گئے تھے۔
چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فل کورٹ بنانے پر ایک بھی قانونی نقطہ نہیں بتایا گیا، آپ نے وقت مانگا تھا اس لیے سماعت ملتوی کی، عدالت میں موجود رہیں اور کارروائی دیکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک قانونی سوال کا جواب نہیں دیا گیا، سوال یہ تھا کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں، قانون کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور پارٹی سربراہ پالیسی سے انحراف پر ریفرنس بھیج سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سوال کے لیے فل کورٹ نہیں بنایا جاسکتا، ہم نے تمام فریقین کو قانونی نقطے پر دلائل کے لیے وقت دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 1998 میں نگراں کابینہ کو سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا، چیف ایگزیکٹو ہی کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے، ہم پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا معاملہ جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فل کورٹ کے نکتے پر قائل نہ ہوسکے، دلائل میں فل کورٹ کا کہا گیا، فل کورٹ کی تشکیل ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ممکن نہیں، ہم اس معاملے کو یوں طول نہیں دے سکتے، یہ محض تاخیری حربے ہیں۔


مشہور خبریں۔
صیہونی حکومت کے بعض عہدہ دار ایران کےجاسوسوں کی کئی سالہ سرگرمیوں سے حیران
?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:اسرائیلی انٹیلی جنس اور داخلی سلامتی کے ادارے کی طرف سے
جنوری
امریکہ کی طرف سے جنگ سے نمٹنے اور جنگ بندی میں توسیع پر مسلسل تنقید
?️ 23 اپریل 2026 سچ خبریں:جنگ کے انتظام اور جنگ بندی میں توسیع میں امریکہ
اپریل
سائبر سیکیورٹی کے میدان میں صیہونی حکومت کی تاریخی ناکامی
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: سیبر سپورٹ فرنٹ، جس نے حال ہی میں صیہونی ریجنٹ
نومبر
ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں عالمی میڈیا کا تجزیہ
?️ 27 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا
مئی
غزہ میں 3 سالہ صیہونی جارحیت کے ہولناک اعداد و شمار؛ 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید
?️ 7 اکتوبر 2026سچ خبریں:غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری صیہونی جنگ کے 3
اکتوبر
غزہ کی انسانی صورتحال پر قطر کی خطرے کی گھنٹی
?️ 3 فروری 2026سچ خبریں:قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے غزہ کی خطرناک انسانی
فروری
10 سے 15 دن ہوں گی عیدالفطر کی چھٹیان
?️ 29 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او
اپریل
قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں حماس کا تازہ ترین موقف
?️ 22 فروری 2025 سچ خبریں:فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان نے کہا ہے
فروری