پاکستان، اسلام آباد اور کابل کے درمیان تہران کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے، دفتر خارجہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہےکہ پاکستان، ایران کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس سے گریز نہیں کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرا بی نے ڈان کے استفسار پر، جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا تہران اسلام آباد اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کے لیےعلاقائی اجلاس بلانے کے لیے کوشاں ہے، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران ایک برادر دوست ملک ہے۔

پاکستان ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے پُرامن حل کے حق میں رہا ہے اور ہم اپنے برادر ملک ایران کی ثالثی کی پیشکش کی قدر کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ہم ایران کے کسی بھی ثالثی کردار سے گریز نہیں کریں گے، ثالثی ہمیشہ قابلِ قبول ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے۔

ترجمان دفتر خارجہکا کہنا تھا کہ عام طور پر ثالثی اس ملک یا فریق کو ناگوار گزرتی ہے جس کا قانونی یا سیاسی کیس کمزور ہو، افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے، لہٰذا ظاہر ہے ہم ثالثی سے گریز نہیں کریں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں 11 اکتوبر کی رات گئے شروع ہوئی تھیں اور اگلی صبح تک جاری رہیں۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کابل کی جارحیت کے جواب میں 23 پاکستانی فوجی شہید جبکہ 200 طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد مارے گئے۔

افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یہ حملہ ’جوابی کارروائی‘ کے طور پر کیا اور الزام لگایا کہ اسلام آباد نے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزری کرتے ہوئے حملے کیے تھے جبکہ اسلام آباد نے ان حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، البتہ یہ مؤقف اپنایا کہ کابل کو ’اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کی میزبانی بند کرنی چاہیے۔

جس کے بعد 15 اکتوبر کی شام جنگ بندی پر اتفاق ہوا، اور بالآخر دونوں فریق دوحہ میں مذاکرات کے لیے اکٹھے ہوئے، دوحہ مذاکرات کے بعد سرحدی کشیدگی روکنے کے لیے عارضی جنگ بندی جاری رہی جبکہ دونوں ملکوں نے استنبول میں دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا تاکہ پائیدار امن و استحکام کے لیے طریقہ کار تشکیل دیا جا سکے۔

25 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ترکیہ کے دارالحکومت میں شروع ہوا، تاہم 29 اکتوبر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ مذاکرات کوئی قابلِ عمل حل فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

تاہم، ثالث کار ترکیہ اور قطر نے مداخلت کر کے مذاکراتی عمل کو دوبارہ بحال کیا اور 31 اکتوبر کو ترکیہ کے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مزید طریقہ کار پر عمل درآمد پر 6 نومبر کو استنبول میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں گفتگو اور فیصلہ کیا جائے گا۔

7 نومبر کو وزیر دفاع نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی سے متعلق بات چیت ختم ہو چکی ہے اور غیر معینہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ مذاکرات کار دونوں فریقوں کے درمیان موجود اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہے۔

مشہور خبریں۔

شام میں دہشتگردوں کی نقل وحرکت پر روس کا انتباہ

?️ 24 اپریل 2021سچ خبریں:روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ النصرہ فرنٹ کے

اسرائیل ایک مجرمانہ تنظیم مین تبدیل

?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں: Haaretz اخبار کے مطابق موجودہ کابینہ عدالتی بغاوت کے ذریعے

حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خلاف امریکی ایلچی کی نئی بیان بازی

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن کے خصوصی نمائندہ برائے شام ٹام باراک نے دعویٰ

فلسطینی جوانوں کا آئیڈیل کون؟

?️ 20 جون 2023سچ خبریں:مغربی کنارے میں گزشتہ روز جنین کے علاقے میں فلسطینیوں اور

حماس کے سربراہ کا چوتھا بیٹا صیہونیوں کے ہاتھوں شہید

?️ 7 مئی 2026سچ خبریں:حماس کے رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے نے عزام الحیہ غزہ

نواز لیگ کی (ق) لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ، استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ڈیڈ لاک

?️ 8 جنوری 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی امیدواروں کی

صیہونی فوج کا فلسطینیوں کو انسانی ڈھال بنانے کا اعتراف

?️ 13 مارچ 2025 سچ خبریں:بین الاقوامی دباؤ کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں

لکی مروت: دہشت گردوں کے 3 حملے ناکام، جوابی فائرنگ میں 7 دہشتگرد ہلاک، 3 جوان شہید

?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے علاقے لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے