?️
کراچی: (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی کو پاکستان کے لیے ’وجودی مسائل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کی بقا کے لیے دو بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں اور ان کو حل کیے بغیر ملک اپنی حقیقی صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔
کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ میں بالکل واضح ہوں، جب تک ہم دو وجودی مسائل (آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی) کو حل نہیں کرتے، ہم اس ملک کی صلاحیت کو حقیقت میں نہیں بدل سکتے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی کا مسئلہ صرف تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق بچوں کی کمزور نشوونما اور ان کا اسکول نہ جانے سے بھی ہے جب کہ یہ وہ تمام شعبے ہیں جن پر وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی مسائل وقتی نوعیت کے ہیں اور چند برسوں میں حل ہو جائیں گے، لیکن ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی کے مسائل وجودی ہیں اور اب فوری توجہ کے مستحق ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان بھر کے قانون سازوں نے تیز رفتار آبادی میں اضافے کو ’قومی ہنگامی صورتِ حال‘ قرار دینے اور آبادی کی بہبود کے اقدامات کو تمام ترقیاتی اور پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے پر زور دیا تھا۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی پیدائش میں وقفہ کی حمایت کی ہے اور سفارش کی ہے کہ علمائے کرام کو اس پیغام کی ترویج میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
گندم اور چینی کی ڈی ریگولیشن کی ضرورت
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت گندم اور چینی کی ڈی ریگولیشن کے معاملے پر بالکل واضح موقف رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری، وزیراعظم اور کابینہ کی رائے یہ ہے کہ حکومت کو جہاں جہاں ممکن ہو، وہاں سے اپنا کردار ختم کر دینا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اگرچہ گندم میں اسٹریٹجک ریزرو کا عنصر موجود ہے کیونکہ یہ ایک بنیادی خوراک ہے، لیکن دیگر صورت میں اسے بھی ڈی ریگولیٹ کر دینا چاہیے جب کہ ان دونوں پالیسیوں پر کام جاری ہے۔
گزشتہ ماہ حکومت نے ’ویٹ پالیسی 2025-26: مارکیٹ پر مبنی نظام کی جانب منتقلی‘ کے نام سے ایک پالیسی متعارف کروائی تھی، جس میں سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت مقرر کی گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بار سیلاب کے باعث ایک خاص صورتِ حال پیدا ہوئی تھی، ورنہ پالیسی سازوں نے بالکل درست فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ڈی ریگولیشن مکمل عمل ہونا چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ویلیو چین کے ایک حصے کو آزاد کر دیا جائے اور دوسرے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے، حکومت کو پورے نظام سے باہر نکلنا ہوگا، اور ہم اسی سمت جا رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں اس سال چاول کی برآمدات میں نقصان ضرور ہوا ہے کیونکہ پنجاب میں اس کی فصلوں کو نقصان پہنچا، تاہم زرعی برآمدات اب بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔


مشہور خبریں۔
کیسز کی براہ راست سماعت سے نظامِ انصاف میں مزید شفافیت آئے گی، قاضی فائز عیسیٰ
?️ 6 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ
جنوری
اینڈرائیڈ موبائلز میں میسیجز کو ایڈٹ کرنے کا فیچر دیے جانے کا امکان
?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ موبائلز فونز کے آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ میں گوگل کی
دسمبر
ترکی کا تاریک مستقبل؛امریکی اخبار کی رپورٹ
?️ 29 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ ترکی کے صدر اندرون و
جنوری
کیا واشنگٹن پوسٹ کی نیٹن یاہو کے خلاف رپورٹ صحیح ہے ؟
?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق واشنگٹن پوسٹ کی شائع
مئی
2026 میں ٹرمپ کے سامنے موجود چیلنجز؛ سیاسی بحران اور عالمی مسائل
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں:یو اس اے ٹوڈے نے 2026 میں ٹرمپ کے سامنے موجود
دسمبر
ٹیکس چوری روکنے کا بہترین راہ حل ٹریک سسٹم ہے: عمران خان
?️ 16 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس
مارچ
مغربی ممالک کی روسی حملے کے بہانے یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی
?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:روس اور امریکہ کے صدور کے درمیان گزشتہ رات ہونے والی
فروری
مودی حکومت پی ڈی پی پر گپکار الائنس چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، التجا مفتی
?️ 26 اکتوبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز
اکتوبر