?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین کی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے اور ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی غذائی مصنوعات کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ یورپی منڈیوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہو سکے، تاہم وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے مسائل بدستور موجود ہیں۔
پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے محکمہ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور (ڈی ای ایف آر اے) کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی تاکہ خوراک کے معیار، حفاظت اور سرٹیفکیشن کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے، اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
یہ فیصلہ حال ہی میں پی ایس کیو سی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پاکستان کے کھانے کے معیار اور حفاظت کے نظام کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانا ہے تاکہ برطانیہ اور یورپی یونین (ای یو) کو خوراکی مصنوعات کی برآمدات میں آسانی ہو۔
یہ تجویز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ہدایت پر سامنے آئی، جس نے پی ایس کیو سی اے کو ہدایت دی تھی کہ وہ یورپی منڈیوں، خصوصاً شہد کی برآمدات بڑھانے کے طریقے تلاش کرے۔
پی ایس کیو سی اے نے اپنے بورڈ کو آگاہ کیا کہ ڈی ای ایف آر اے برطانیہ میں خوراک کی صفائی، حیوانی نژاد مصنوعات اور ماحولیاتی قواعد و ضوابط کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ برطانیہ میں حلال خوراک کی منڈی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ڈی ای ایف آر اے کے ساتھ تعاون سے پاکستانی برآمد کنندگان کو غیر ٹیرف رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تجویز کردہ معاہدے کے تحت پی ایس کیو سی اے کے ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کے عمل کو برطانیہ اور یورپی یونین کے معیارات کے تحت باہمی طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پی ایس کیو سی اے برطانیہ کے ریگولیٹرز کے لیے تسلیم شدہ برآمدی سرٹیفکیٹ جاری کر سکے گی، جس سے یورپ میں تیسرے فریق سے تصدیق کے عمل کے اخراجات اور تاخیر کم ہوں گی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ یادداشتِ تفاہم یورپی غذائی ضوابط، جیسے کہ ای سی 852/2004، 853/2004، 178/2002 اور ریگولیشن (ای یو) 2017/625 کے مطابق تعمیل کو شامل کرے گی اور پاکستان میں ہیزرڈ انالسس اینڈ کریٹیکل کنٹرول پوائنٹ (ایچ اے سی سی پی) کے اصولوں کو فروغ دے گی۔
پی ایس کیو سی اے کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ڈی ای ایف آر اے کی جانب سے منظوری حاصل ہونا شہد، پروسیس شدہ غذاؤں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں سہولت پیدا کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔
تاہم، 18ویں ترمیم کے بعد خوراک کی حفاظت بنیادی طور پر صوبائی معاملہ ہے، جس سے ہم آہنگی کا چیلنج پیدا ہوتا ہے۔
صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان کو ممکنہ طور پر برآمدی مصنوعات کے لیے علیحدہ پیداواری یونٹس قائم کرنا پڑیں گے یا پھر صوبائی محکمہ خوراک کو اپنے معیارات پی ایس کیو سی اے کے مطابق ہم آہنگ کرنے ہوں گے۔
برآمد کنندگان طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقامی سطح پر خوراکی کنسائنمنٹس کی سرٹیفکیشن کی جائے، کیونکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ٹیسٹنگ نہ ہونے کے باعث یورپی یونین اور برطانیہ میں تاخیر اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


مشہور خبریں۔
مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی میڈیا کا دعویٰ
?️ 4 دسمبر 2025 مصر کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کی کوشش:صہیونی
دسمبر
قطر نے یورپی یونین کو گیس کی برآمدات بند کرنے کی دھمکی دی
?️ 27 جولائی 2025قطر نے یورپی یونین کو مائع گیس کی برآمدات بند کرنے کی
جولائی
حزب اللہ کے خلاف سازش کے پہلو
?️ 29 اپریل 2025سچ خبریں: عبدالباری عطوان، معروف فلسطینی تجزیہ کار، نے اس الیکٹرانک اخبار
اپریل
رواں سال شرح نمو 2.8 فیصد، کرنٹ اکاونٹ خسارہ 0.6 فیصد رہے گا،عالمی بینک
?️ 10 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی بینک نے قراردیا ہے کہ رواں مالی
اکتوبر
میں وینزوئلا آپریشن میں طبس جیسے سانحے کے دہرائے جانے سے پریشان تھا:ٹرمپ
?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ
جنوری
یوکرین کی ملٹری امداد پر جرمنی کا کتنا خرچہ ہوا؟
?️ 23 ستمبر 2023سچ خبریں:یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد پر اب تک جرمنی کو
ستمبر
چینی کاروباری شخصیات پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں: اسد عمر
?️ 5 فروری 2022بیجنگ(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ
فروری
جنوبی لبنان میں خوفناک دھماکہ
?️ 13 اپریل 2022سچ خبریں:جنوبی لبنان میں ہونے والے زوردار دھماکے اس ملک کے کچھ
اپریل