پاکستان پوسٹ کو فنڈز کے غلط استعمال، غیر قانونی بھرتیوں پر شدید تنقید کا سامنا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزارت مواصلات سے متعلق آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں مالی بدانتظامی اور غیر قانونی بھرتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس کے دوران پی اے سی نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے ایک نئی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی۔ منیب عامر پیرزادہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ندیم عباس، خواجہ شیراز اور سلیم مانڈوی والا کو اراکین نامزد کیا گیا۔

آڈٹ حکام نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان پوسٹ آفس ڈپارٹمنٹ نے بغیر کسی اجازت کے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں متعدد اکاؤنٹس کھولے۔ فنانس ڈویژن نے تین اکاؤنٹس کھولنے کی منظوری دی تھی، لیکن پوسٹ آفس نے بغیر منظوری کے دو اضافی اکاؤنٹس کھولے۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ ’آڈٹ اعتراضات کے باوجود اب تک کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی ہے‘۔

سیکریٹری مواصلات علی شیر محسود نے تسلیم کیا کہ پاکستان پوسٹ آفس کو آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔

تاہم، کمیٹی کے چیئرمین نے فنانس ڈویژن اور محکمہ کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کیا۔

جنید اکبر نے پوچھا کہ ’فنانس ڈویژن کا کہنا ہے کہ اسے کبھی بھی درخواست موصول نہیں ہوئی، جبکہ سیکریٹری کا دعویٰ ہے کہ یہ بھیجی گئی تھی، رابطے کا فقدان کہاں ہے؟‘

کمیٹی نے وزارت خزانہ سے باضابطہ طور پر جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

اجلاس میں پوسٹ آفس میں غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ 4 ہزار 252 اسامیوں کے لیے اشتہارات جاری کیے گئے، حالانکہ صرف 3 ہزار 938 اسامیوں کو سرکاری طور پر منظور کیا گیا تھا۔

چیئرمین کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’بھرتی کیے گئے افراد کی طرف سے جمع کرائی گئی زیادہ تر دستاویزات جعلی ہیں۔ نوکریاں بیچ دی گئیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ حکم امتناع ہے؟‘

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ’رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں قصوروار ہیں، دونوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔‘

پی اے سی نے معاملہ تحقیقات کے لیے نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

4 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کا غلط استعمال

کمیٹی نے پاکستان پوسٹ کے 4 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کے غیر مجاز استعمال سے متعلق آڈٹ اعتراضات بھی اٹھائے۔

کمیٹی کے ارکان نے سوال کیا کہ شہریوں سے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگیوں کا غلط استعمال کیسے کیا گیا۔

چیئرمین سے سوال کیا کہ ’یہ عوامی فنڈز تھے جو لوگوں نے اپنے بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے جمع کرائے تھے، آپ ان کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا جواز کیسے پیش کر سکتے ہیں؟‘

اس عمل کو ’ڈکیتی‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے، پی اے سی کے اراکین نے احتساب کا مطالبہ کیا۔ خواجہ شیراز محمود نے سوال کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف کیا تادیبی اقدامات کیے گئے؟

جواب میں، سیکریٹری مواصلات نے دعویٰ کیا کہ اندرونی تادیبی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور نیشنل بینک کے ساتھ مالی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔

پی اے سی نے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے این بی پی کے حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی قانون سازوں کا جو بائیڈن سے عمران خان کی رہائی کیلئے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

?️ 17 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 50 کے قریب امریکی قانون سازوں نے امریکی

اسرائیل کے ہتھیاروں کے حامی غزہ کے جرائم میں حصہ لینا چھوڑ دیں: اردگان

?️ 7 جون 2024سچ خبریں: آنکارا میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے ساتھ ایک

حکومت آئین کا حلیہ بگاڑ رہی، اصل شکل میں بحال کروائیں گے: حافظ نعیم

?️ 11 نومبر 2025لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا

مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کتنی خواتین لاپتہ ہوتی ہیں؟

?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں 2019

حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف

?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے بیان میں کہا حکومت

فاروق رحمانی کی مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں ، تلاشی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی مذمت

?️ 27 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ

سعودی عرب کی ایران کو اقتصادی تعاون بڑھانے کی تجویز

?️ 30 نومبر 2024سچ خبریں: ایک رپورٹ میں بلومبرگ نے تہران کے ساتھ اقتصادی تعاون

صیہونی اپوزیشن لیڈر: نیتن یاہو معاہدے کے راستے پر پتھر پھینک رہے ہیں

?️ 9 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی اپوزیشن کے رہنما نے کہا ہے کہ وزیراعظم بنجمن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے