پاکستان میں سیلاب سے محصولات میں کمی ہو گی نہ بڑا معاشی نقصان، آئی ایم ایف کا اندازہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کو سیلاب کی وجہ سے رواں مالی سال کی معاشی نمو اور محصولات کی وصولی پر کوئی بڑا نقصان نظر نہیں آرہا ہے۔

پنجاب کے علاوہ صوبوں نے بھی کسی بڑے معاشی نقصان کی نشاندہی نہیں کی ہے اس صورت حال سے معاشی اہداف میں کمی آنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔پاکستانی حکام نے تین دریاؤں میں آنے والے سیلاب سے ہونے والے معاشی نقصانات کو ٹیبل کیا ہے لیکن مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے انفرااسٹرکچر بالخصوص پنجاب میں نقصانات کا تخمینہ لگانا ابھی بھی جاری ہے۔

حکومتی ذرائع نے کہا ہے آئی ایم ا یف کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران سیلاب کے معاشی اثرات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے ایک مقامی ہوٹل میں الگ الگ ملاقاتوں کے دوران آئی ایم ا یف ٹیم کے ساتھ معاشی نقصانات کے اپنے ابتدائی تخمینے شیئر کیے۔ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران آئی ایم ایف ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ ابتدائی ان پٹ کی بنیاد پر کوئی خاص معاشی نقصان نہیں ہوا۔

تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ وہ نقصان کی تشخیص کی رپورٹ کا انتظار کرے گا۔ آئی ایم ایف نے بھی ٹیکس محصولات پر سیلاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا ہے۔ سیلاب کے اثرات کے بارے میں آئی ایم ایف کے مشاہدات وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے جائزہ اجلاسوں کے دوران سیلاب کے اثرات پر غور کرنے کی درخواست کے بعد سامنے آئے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ حکومت سیلاب سے متعلق اخراجات کو ہنگامی پول سے پورا کر سکتی ہے اور ہوسکتا ہے اسے اضافی وسائل کی ضرورت نہ پڑے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات 25 ستمبر کو شروع ہوئے اور 8 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات کا کامیاب اختتام دو قسطوں کے اجراء کی راہ ہموار کرے گا۔یہ قسطیں دو مختلف قرضوں کے پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر 1.2بلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا اندرونی اندازہ یہ بھی تھا کہ معاشی ترقی پر سیلاب کا کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ذرائع نے مزید کہا کہ حکومت نے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے اور اسے اب بھی 3.7 فیصد سے 4 فیصد تک حاصل کرنے کی توقع ہے۔پلاننگ کمیشن کے مطابق کل معاشی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 360 ارب روپے یا معیشت کے حجم کا 0.3 فیصد ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو اب بھی 4 فیصد کے لگ بھگ رہ سکتی ہے۔

فصلوں کے بڑے نقصان کا تخمینہ نہ لگانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چاول اور گنے کی بوائی ابتدائی تخمینہ سے زیادہ رقبہ پر ہو ئی ہے اور اس سے بھی فصلوں کے نقصان کے اثرات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ذرائع نے کہا کہ کرنٹ اکاو?نٹ خسارہ بھی تخمینہ سے زیادہ نہیں بڑھے گا کیونکہ سیلاب کی وجہ سے درآمدات کی کوئی اضافی ضرورت پیش نہیں آتی۔تاہم آئی ایم ایف نے ابھی تک اقتصادی ترقی، درآمدات اور کرنٹ اکاو?نٹ خسارے کے بارے میں اپنے تخمینے کا اشتراک نہیں کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہم بچوں کے لیے خوراک اور صحت کی امداد فراہم کرنے سے قاصر ہیں: افغانستان یونیسیف

?️ 8 مئی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ کی رپورٹ کے مطابق اس

9 ہزار داعشیوں کا شام کی جیلوں میں ہونا خطرے کی گھنٹی:عراقی عہدیدار

?️ 24 فروری 2025 سچ خبریں:عراق کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے شام میں

یوکرین میں جنگ جاری رکھنے میں امریکہ کا مقصد کیا ہے؟

?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکہ کی جانب سے یوکرین کو کلسٹر بم بھیجنے کے

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ، بھارت میں شدید کھلبلی مچ گئی

?️ 16 اپریل 2021نئی دہلی (سچ خبریں)  افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو لے

ٹرمپ اور مصر کے صدر کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟  

?️ 2 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی

امریکی سینیٹر کی قرارداد کا بنیادی مرکز کہاں ہے ؟

?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے

’سپر مین‘ کا ٹیزر سب سے زیادہ دیکھا جانے ٹریلر بن گیا

?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں: آنے والی سائنس فکشن سپر ہیرو فلم ’سپر مین‘ کا

گورنر اسٹیٹ بینک کتنی تنخواہ اور کیا مراعات لیتے ہیں؟

?️ 1 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی تنخواہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے