پاکستان اور چین کے درمیان شپنگ انڈسٹری میں تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور چین نے جہاز رانی ( شپنگ) کی صنعت میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او پر) پر دستخط کردیے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان صنعت میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ آج پاکستان اور چین نے جہاز رانی ( شپنگ) کی صنعت میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او پر) پر دستخط کیے ہیں۔

مفاہمت کی یادداشت پر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چین کے شینڈونگ شینشو گروپ کے چیئرمین نے دستخط کیے، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری بھی موجود تھے۔

جنید چوہدری نے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ اس ایم او یر پر دستخط پاکستان اور چین کے درمیان سمندری شعبے میں بڑھتی ہوئی شراکت داری کی علامت ہیں، جس سے پاکستان کی شپنگ انڈسٹری میں مستقبل میں تعاون، سرمایہ کاری اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔’

انہوں نے زور دیا کہ یہ تعاون علاقائی تجارت اور، رابطے کو فروغ دے گا، اور مشترکہ اقتصادی مقاصد کے ذریعے پاکستان کے کردار کو عالمی سمندری صنعت میں مزید مضبوط کرے گا۔

کراچی میں قائم پی این ایس سی پاکستان کی سب سے بڑی قومی جہاز راں کارپوریشن ہے ٍ جو وزارت بحری امور کے تحت کام کرتی ہے، شینڈونگ شینشو گروپ کارپوریشن، جو شینڈونگ صوبے کے زبو سٹی میں قائم ہے، بین الاقوامی تجارت اور شپنگ کے شعبے میں ایک نمایاں چینی ادارہ ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا، کہ یہ ایم او یو دونوں اداروں کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد کاروباری فوائد کا حصول اور پاکستان کے سمندری شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔’

بیان کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد کئی اہم شعبوں میں مشترکہ کوششیں کرنا ہے، جن میں مائع بلک ٹینکرز، خشک بلک کیریئرز اور کنٹینر شپ جیسے تجارتی کارگو جہازوں کی خرید و فروخت شامل ہے، جو مشترکہ یا انفرادی ملکیت میں یا نفع و نقصان کی شراکت کی بنیاد پر کی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم او یو میں شینشو کی جانب سے پی این ایس سی کو مختلف چارٹر میکانزم کے تحت جہاز کرائے پر دینے کی شقیں بھی شامل ہیں، جن میں ٹائم چارٹر، اسپاٹ چارٹر اور بیئر بوٹ چارٹر شامل ہیں۔

ایم او یو کا ایک اور بڑا جزو پی این ایس سی کی جانب سے باہمی اتفاق کے مطابق جہازوں کے لیے کمرشل، تکنیکی اور انتظامی خدمات فراہم کرنا ہے، جن میں چارٹرنگ، مارکیٹنگ، آمدنی میں اضافہ، دیکھ بھال، ڈرائی ڈاکنگ، کریونگ اور ریگولیٹری کمپلائنس جیسے شعبے شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ ایم او یو میں شینشو کی طرف سے پی این ایس سی کو جہازوں اور دیگر فلوٹنگ پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت کی شقیں بھی شامل ہیں، یہ انتظامات تجارتی طور پر مسابقتی شرائط کے تحت ہوں گے تاکہ باہمی فائدہ اور مالی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔’

جون می پی این ایس سی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے تین برسوں میں اپنا کارگو فلیٹ 34 جہازوں تک بڑھا کر تقریباً 700 ملین ڈالر کی فریٹ آمدنی حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جو ملک کے سمندری اور لاجسٹکس سیکٹر کو دوبارہ فعال کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مشہور خبریں۔

عراقی آئین صیہونیوں سے کسی بھی تعلق کی اجازت نہیں دیتا: عراقی پارلیمنٹ ممبر

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:عراقی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے کے ایک رکن نے اس ملک

ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہم جوئی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے،ایران کا دوٹوک مؤقف جنگ روکنے کا ذریعہ بنے گا

?️ 7 فروری 2026ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہم جوئی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے،

بھارت کے پاس پانی روکنے یا بہاؤ میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں: انڈس واٹر کمشنر

?️ 19 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) انڈس واٹر کمشنر پاکستان مہر علی شاہ نے

’آئی ایم ایف پروگرام کیلئے پاکستان کو امریکی حمایت حاصل تھی‘

?️ 13 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اشارہ

کیا تحریک انصاف کا راستہ روکا جا رہا ہے؟

?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے انسداد دہشت

طاہر اشرفی کی ویکسینیشن کے حوالے سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل  

?️ 2 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر اشرفی

کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے ایک مشترکہ بیان میں

اسرائیل ابوظہبی کو آئرن ڈوم فروخت کرنے کے لیے تیار

?️ 5 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے