?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کی تجویز پر حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحٰق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی شامل ہیں جب کہ پیپلزپارٹی سے راجا پرویز اشرف، نویدقمر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی سے علیم خان، مسلم لیگ (ق) سے چوہدری سالک اور بلوچستان عوامی پارٹی سے سردار خالد مگسی شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ انہوں نے مذاکرات سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کی کاوش کو بھی سراہا۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی۔
بعد ازاں، اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم سے حکومتی مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہونا چاہیے، مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے، حکومت معاملات کو حل کرنا چاہتی ہے اور یہ کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے اسپیکر کے بطور کسٹوڈین آف دی ہاؤس کردار کو تسلیم کیا ہے جب کہ بیرسٹر گوہر کی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز کو تسلیم کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اختلافات ختم کرنے کے لیے بات چیت ضروری ہے اور اس کے لیے میرا دفتر ہر وقت حاضر ہے۔
ایاز صادق کے اس بیان سے ایک روز قبل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شیر افضل مروت نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میڈیا پر مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہو رہے، قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے۔
بعد ازاں، خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے دوران کہا تھا کہ شیر افضل مروت نے جو بات کی، یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوا ہے، ہماری اس جنگ میں نقصان ملک کو ہو رہا ہے، معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں، دھمکیوں سے نہیں، سیاستدان معاملات کے حل اور مذاکرات کے لیے سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا تھا کہ میں مذاکرات کا ماہر نہیں ہوں لیکن ہماری جماعت اور پیپلزپارٹی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اس کی قابلیت رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی ایسی آنی چاہیے کہ ماحول بن سکے لیکن اگر آپ اپنی زبان سے کشیدگی بڑھا رہے ہوں اور یہ توقع رکھیں کہ مذاکرات ہوجائیں تو یہ ممکن نہیں۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناللہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات تک سسٹم آگے نہیں چل سکتا، سیاسی استحکام سمیت اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ سیاسی لوگ بیٹھ کر جمہوری انداز میں مسائل حل کریں۔


مشہور خبریں۔
دہشتگردانہ حملے میں فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے
?️ 1 جولائی 2021راولپنڈی(سچ خبریں) آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق
جولائی
استحصال کا خاتمہ اور مساوات کا قیام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آصف زرداری
?️ 20 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے
فروری
اسموگ کے تدارک کیلئے اسکول، کالجز ہفتے کو بند رکھنے کا حکم، ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کی تجویز
?️ 13 نومبر 2023 لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے
نومبر
امریکہ کا شام میں اپنی فوج میں اضافے کا خاموش اعتراف
?️ 20 دسمبر 2024سچ خبریں: پینٹاگون کے چیف ترجمان نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ 2000
دسمبر
غزہ جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا بیان
?️ 11 ستمبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں زور
ستمبر
اقوام متحدہ کا 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد کا دن مقرر کرنے کا اعلان
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بل پاس کیا گیا
مارچ
اسرائیل کے ساتھ معمول پر آنے والے پچھتائیں گے: الحوثی
?️ 30 اپریل 2022سچ خبریں: یمنی رہنما عبدالمالک الحوثی نے جمعہ کی شام کہا کہ
اپریل
یورپ کو اپنے سیاسی اور سیکورٹی تعلقات پر نظرثانی کرنا کیوں ضروری ہے؟
?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں:برلن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل پبلک پالیسی کے ڈی سی اور
جنوری