نیب ترمیم کیس: ’آئین میں عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں دیا گیا‘

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اپنایا ہے کہ آئین میں عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کا آغاز وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل سے ہوا اور انہوں نے کہا کہ درخواستوں میں ایسا کوئی قابل ذکر نکتہ نہیں جن کا جواب دیا جاسکے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ قانون اس وقت ہی کالعدم ہوتا ہے جب کوئی اور راستہ نہ بچا ہو، عدلیہ، پارلیمان اور ایگزیکٹو کو اپنی اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے عدلیہ کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار دیا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں بھی قوانین کالعدم قرار دینے کا اختیار مشروط ہے، نیب ترامیم کو اسلامی اصولوں کے خلاف ہونے کی بنیاد پر بھی چیلنج کیا گیا ہے، قانون خلاف شریعت قرار دینے کے لیے واحد فورم وفاقی شرعی عدالت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو قوانین کا شریعت کے پیرائے میں جائزہ لینے کا اختیار نہیں، قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے پاس مجرمان کی معافی کا اختیار موجود ہے، امریکی صدر کا فیصلہ درست ہو یا غلط عدلیہ کبھی مداخلت نہیں کرتی۔

اپنے دلائل میں وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود اراکین کی عددی تعداد ہونی چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے اراکین حاضر تھے۔

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ اراکین کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی اراکین نے منظور نہیں کیا۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نہ ہوں، مخدوم علی خان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی اراکین پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت اراکین پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ججوں اور اراکین پارلیمنٹ کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ جج قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جج ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ جج آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے، امریکی عدالت نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بری یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے سماعت 11 جنوری (کل) تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ جون 2022 میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

پیلوسی کا طیارہ تائپہ کے ہوائی اڈے پہنچا

?️ 3 اگست 2022سچ خبریں:   خبر رساں ذرائع نے اعلان کیا کہ امریکی ایوان نمائندگان

مغربی کنارے میں صہیونیوں کے لیے 126 نئے یونٹس کی تعمیر کی منظوری

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق، صہیونیستی حکومت کی پلاننگ

حملے کے پہلے دن غزہ کے عوام پر 16 ٹن بم گرائے گئے

?️ 6 اگست 2022سچ خبریں:    صہیونی اخبار یدیوت احرونوت نے ایک خبر میں لکھا

شمالی عراق میں ترک فوجی اڈے پر حملہ

?️ 11 ستمبر 2022سچ خبریں:     عراقی میڈیا ذرائع نے آج اتوار، 11 ستمبر کو

یمنی قیدیوں کو پھانسی دینا سعودی عرب کا جنگی جرم

?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:  یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارت خارجہ نے ایک

 واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جوہری ہتھیاروں پر خفیہ معاہدہ 

?️ 28 اکتوبر 2025 واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جوہری ہتھیاروں پر خفیہ معاہدہ  اتحادِ

زارا برانڈ کے کپڑے خریدنا حرام ہے:فلسطینی قاضی القضات

?️ 23 اکتوبر 2022سچ خبریں:فلسطینی عدلیہ کے سربراہ نے ایک فتوے میں اعلان کیا ہے

 بھارتی فوج کے ہاتھوںایک مہینے میں 20 کشمیری شہید

?️ 3 دسمبر 2021سچ خبریں:صرف نومبر کے مہینے میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے