نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیلئے کوئی ایمنسٹی اسکیم زیرِ غور نہیں، ایف بی آر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے کسی بھی قسم کی ایمنسٹی اسکیم زیرِ غور ہونے کو مسترد کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تردید ایک ایسے وقت میں آئی ہے، جب گزشتہ کچھ ہفتوں سے ڈیلرز مختلف قسم کی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔

ترجمان ایف بی آر آفاق احمد قریشی نے ڈان کو بتایا کہ اس طرح کی کوئی اسکیم زیرِ بحث ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

آفاق احمد قریشی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایف بی آر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم لانے پر غور کر رہا ہے، یہ محض افواہوں کے سوا کچھ بھی نہیں، مزید کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہے، لہٰذا اس طرح کی اسکیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

نگران وفاقی حکومت نے کرنسی کے غیر قانونی تاجروں، اسمگلرز اور ان افراد کے خلاف ایکشن لے رکھا ہے جو مقامی یا غیر ملکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں، اس کے نتیجے میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر کم ہو کر 277 روپے پر آ گئی ہے، جو ستمبر میں 335 روپے کی بلند ترین سطح پر تھی۔

ایک ٹیکس حکام نے ڈان کو بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کے لیے خاص طور پر ڈیلرز کی طرف سے حمایت کی کوشش جاری ہے، جنہوں نے بلوچستان، خبیر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

2010 میں ایسی گاڑیوں کے لیے ایک ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ کرپشن اور قانونی تنازعات کی وجہ سے متاثر ہوا اور اسمگلنگ شدہ گاڑیوں کی آمد کو روکنے یا ایف بی آر کے لیے خاطر خواہ آمدنی کے حصول میں ناکام رہا۔

سینئر کسٹم افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پچھلے تجربے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فی الحال نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو ریگولرائز کرنے کے لیے کوئی ایمنسٹی اسکیم زیرِ غور نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے انکار کے باوجود سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نمایاں دباؤ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ریگولرائزیشن کے لیے کوئی اسکیم متعارف کرانے پر غور کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز کی کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے مخالفت کی ہے، اور پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے کو اٹھایا گیا تھا۔

چیئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن ایچ ایم شہزاد نے ڈان کو بتایا کہ حکومت کو افغانستان سے گاڑیوں کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ 5 سے 10 سال پرانی گاڑیاں افغانستان میں بندر عباس بندرگاہ کے ذریعے داخل ہوتی ہیں۔

انہوں نے اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حکومت کو دوبارہ اس طرح کی اسکیموں پر غور کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے غیر ظاہر شدہ آمدنی کو قانونی حیثیت دینا ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں قومی محصولات کو نقصان پہنچتا ہے۔

ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ مقامی مینوفیکچررز نے قیمتیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، مزید کہا کہ آٹو سیکٹر کے لیے حکومت کی پالیسی میں کھلا تضاد ہے۔

سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے فاٹا، پاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے استثنیٰ آئندہ سال 30 جون کو ختم ہو رہا ہے، ابتدائی طور پر استثنیٰ رواں برس 30 جون کو ختم ہونا تھا لیکن پی ڈی ایم کی حکومت نے اس میں ایک سال کی توسیع کر دی تھی۔

مشہور خبریں۔

نیب کے ہوتے ملک نہیں چلے گا:شاہد خاقان عباسی

?️ 21 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے نیب کے وسیع

سعودی عرب کی خودساختہ یمنی حکومت کو 500 ملین ڈالر کی مالی امداد

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں:سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں یمن کی خودساختہ حکومت کو

دنیا میں امریکہ کی خفیہ جنگوں کا انکشاف

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:   امریکی ویب سائٹ انٹرسیپٹ نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ

کراچی میں ترقیاتی کام جاری، ہر سڑک پر جدید بسیں چلیں گی۔ شرجیل میمن

?️ 30 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ

سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 18 خوارجی جہنم واصل کردیئے

?️ 17 اکتوبر 2025لکی مروت (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 18 خوارجی

نیتن یاہو کا اعتراف: ایک بڑی ناکامی ہوئی جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: کئی مہینوں کی ذمہ داری سے بچنے کے بعد صیہونی

وزیر اعظم چینی قیادت کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کریں گے

?️ 13 جنوری 2022اسلام آباد( سچ خبریں)  وزیر اعظم عمران خان چینی قیادت کی دعوت

غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے نئے اقدامات؛ وائٹ ہاؤس وائٹ کوف کے نئے اقدام کے بارے میں پر امید ہے

?️ 29 مئی 2025سچ خبریں: ایک امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ نے جمعرات کی صبح اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے