نااہلی کی مدت سے متعلق کیس: سپریم کورٹ کی ہدایت پر اخبارات میں اشتہار جاری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ‏تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور الیکشن ایکٹ میں تضاد کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر اخبارات میں اشتہار جاری کر دیا گیا۔

اشتہار میں لکھا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت نااہلی کی مدت کا سوال اٹھا، عدالتی فیصلے کا اثر آئندہ عام انتخابات میں امیدواروں پر بھی ہو سکتا ہے۔

اشتہار میں مزید بتایا گیا کہ خواہشمند امیدوار چاہیں تو سپریم کورٹ میں اپنا جامع تحریری جواب جمع کرا سکتے ہیں، مذکورہ اپیلوں اور دیگر متعلقہ مقدمات کی سماعت 2 جنوری 2024 کو 7 رکنی بینچ کرے گا۔

واضح رہے کہ 11 دسمبر کو میر بادشاہ خان قیصرانی کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجر بینچ کے سامنے مقرر کرنے کے لیے ججز کمیٹی کو بھجواتے ہوئے کہا تھا کہ کیس کی اگلی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل نے بتایا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، انہوں نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی تھی، میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دریافت کیا تھا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہوجائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والےکو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کی تشریح پر پاناما کیس میں فیصلہ دے دیا تھا۔

بعدازاں 13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی نا اہلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا تھا جس میں نااہلی کی مدت سے متعلق تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے زیر التوا ہونے کو الیکشن میں تاخیر کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

حکمنامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی آئینی سوال والے کیس پر کم از کم پانچ رکنی بینچ ضروری ہے، کیس کمیٹی کی جانب سے تشکیل دیئے گئے بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے، کچھ امیدواروں نے جعلی ڈگریاں جمع کرائیں جس پر انہیں نااہلی اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے مطابق تمام وکلا نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے حکم اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232(2) سے غیر ضروری کنفیوژن پیدا ہوگی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ فریقین کے وکلا مؤقف اپنایا کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے عام انتخابات سے پہلے اس عدالت کا فیصلہ ضروری ہے، بےیقینی کی صورتحال کی وجہ سے الیکشن ٹربیونلز اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھے گا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت آئین کی تشریح کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ ہونا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وفاقی قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کا معاملہ ہے جو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکمنامے کے مطابق الیکشن کمیشن،اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، عوام کی سہولت کے لیے انگریزی اور اردو کے بڑے اخبارات میں بھی نوٹس شائع کیے جائیں، عدالت نے آئینی و قانونی نکات پر تحریری جواب طلب کر لیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سوئٹزرلینڈ نے کس طرح ٹرمپ کو خریدا؟

?️ 17 نومبر 2025سچ خبریں:ٹرمپ کی سوئٹزرلینڈ کے حوالے سے رائے میں تبدیلی اس بات

ایک اور شامی سائنسدان کا قتل

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں: شام میں ایک اور معروف شامی سائنسدان کو بے دردی

بلنکن کا پومپیو اور دیگر امریکی حکام کی جان کو خطرہ ہونے کا الزام

?️ 27 اپریل 2022سچ خبریں:  امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کل منگل ایک بیان

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کی تصاویر شائع کرکے اسرائیل کو بے نقاب کردیا

?️ 30 مئی 2021نیویارک (سچ خبریں)  امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حالیہ اسرائیلی حملوں میں

ہم نے شام میں داعش کے سربراہ کو مار ڈالا: اردوغان

?️ 1 مئی 2023سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اتوار کی شام اعلان

ٹماٹروں کے بادشاہ کی فلسطین کے ساتھ غداری

?️ 21 اپریل 2024سچ خبریں: ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی روک تھام کے دوران اردن

مولانا اپنی سیاسی انا کی تسکین کے لیے جمہوری نظام سے نہ کھیلیں

?️ 10 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ

نیویارک کے سابق گورنر کی جنسی بد سلوکی پر رپورٹنگ کرنے پر سی این این کے اینکر نوکری سے برخاست

?️ 5 دسمبر 2021سچ خبریں:سی این این نے اپنے اینکر کرس کومو کوان کے بھائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے