?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت اپنے ملازمین کی تفصیلات فراہم کرنے کی شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو 7 روز کے اندر تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق مقدمے کا فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ 7 روز میں معلومات درخواست گزار کو فراہم کرے، معلومات کے حصول کا تقاضا کرنے والے پر وجوہات بتانا لازم ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ میں اپیل کے لیے جمع کرائی گئی فیس واپس کی جائے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ فیصلے کو اردو میں بھی جاری کیا جائے گا، معلومات فراہم کرنے والا وجوہات کے جائزے کا پابند ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا اطلاق سپریم کورٹ پر بھی ہوتا ہے، آرٹیکل 19 اے کے تحت معلومات تک رسائی شہریوں کا حق ہے۔
واضح رہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمے سے کسی بھی قسم کی معلومات اور دستاویزات حاصل کرسکتا ہے۔
اس سلسلے میں مرکز اور صوبوں نے معلومات تک رسائی کے لیے قانون سازی بھی کی ہے جس کے تحت پاکستان میں معلومات تک رسائی کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی سرکاری محکمے سے تحریری طور پر معلومات مانگ سکتا ہے اور اس کے لیے شہری سرکاری محکمے کو ان معلومات کے حصول کے اغراض و مقاصد بتانے کا پابند نہیں ہے۔
معلومات کے لیے تحریری درخواست دینے کے بعد 14 دن تک جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں شہری کو متعلقہ انفارمیشن کمیشن سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی نے مشرف دور میں منظور شدہ ’رائٹ ٹو انفارمیشن آرڈیننس 2002‘ کو تبدیل کرتے ہوئے ’دی رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمشن ایکٹ 2017‘ منظور کیا تھا، جس کے تحت شہری تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
اٹھاریوں ترمیم میں پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 19 اے کو شامل کیا گیا جس کے مطابق کوئی بھی شہری قوانین کے تحت مفاد عامہ سے متعلق کسی بھی محکمے سے معلومات حاصل کرسکتا ہے۔
اس سلسلے میں 2018 میں پاکستان انفارمیشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جسے گزشتہ سال کے آخر تک اپنے قیام کے 4 سال بعد شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی کُل 2 ہزار 474 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے وزارت دفاع سے متعلق سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں جب کہ اس کے بعد درخواستیں وزارت خزانہ کے حوالے سے دائر کی گئی تھیں۔
غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے صدر احمد بلال کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کے قوانین ملک میں شفافیت کو یقینی بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں، تاہم بدقسمتی سے یا تو لوگوں کو اس بارے میں علم نہیں ہے یا وہ اسے استعمال نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابقہ فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ 2002 موجودہ قانون کی نسبت بہت کمزور قانون تھا اس کے باوجود پلڈاٹ نے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے کامیابی سے اراکین اسمبلی کی حاضری سے متعلق معلومات حاصل کرلی تھیں، اگر کوئی شخص معلومات کے حصول میں سنجیدہ ہو تو یہ قوانین انہیں معلومات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہ مسئلہ ان قوانین پر عمل درآمد کا نہیں بلکہ شہریوں کی جانب سے ان قوانین کو استعمال نہ کرنے کا ہے۔
معلومات کی آزادی اور شفافیت کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے پروگرام مینیجر وقاص نعیم کا کہنا تھا کہ ایسے تمام معاملات جن میں عوام کا پیسہ استعمال ہوتا ہو ان میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کے قوانین مؤثر ذریعہ ہیں، تاہم ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے قائم کردہ کمیشنز کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سماجی تنظیموں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کو چاہیے کو وہ ان قوانین اور ان کی افادیت سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کریں۔


مشہور خبریں۔
صیہونی جرائم فلسطینی مزاحمت کو نہیں روک سکتے: جہاد اسلامی
?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک نے ایک بیان میں صیہونیوں کی
دسمبر
انسٹا گرام انتظامیہ نے صارفین کو اہم خوشخبری سنا دی
?️ 28 اکتوبر 2021کیلیفورنیا(سچ خبریں)انسٹا گرام انتظامیہ نے صارفین کی بڑی مشکل حل کرتے ہوئے
اکتوبر
انگریزی اخبار: یمنی حملوں کو روکنے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے
?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: انگریزی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں
جولائی
حاکمیت نہ فروخت ہوگی، نہ مذاکرہ؛ ہنڈوراس کی صدر کا اعلان
?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں:ہنڈوراس کی صدر سیومارا کاسٹرو نے امریکی مداخلت کے ردعمل میں
نومبر
پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ سے اعظم سواتی کی گرفتاری کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ
?️ 1 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) رہنما پی ٹی آئی ڈاکٹر یاسمین راشد نے سینیٹر
دسمبر
کیا بھارت بھی معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے؟
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: بھارت کے وزیر اعظم مودی نے امن کے دعووں کے
اگست
چین کی حکمران جماعت کے وزیر خارجہ: ہم ایران کے جوہری مفادات سے متعلق مسائل کی حمایت کرتے ہیں
?️ 20 دسمبر 2025سچ خبریں: چین کی حکمراں جماعت کی مرکزی کمیٹی کے وزیر خارجہ
دسمبر
امریکہ کی سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر کی اف-15 جنگی طیاروں کی معاونت کی منظوری
?️ 4 فروری 2026امریکہ کی سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر کی اف-15 جنگی طیاروں
فروری