لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، قبضے واپس

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دینے اور آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عابدہ پروین سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کر کے فل بنچ بنانے کی سفارش کردی، عدالت نے پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گیے قبضوں کو بھی واپس کردیا۔

عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ حکومت کو بتائیے اگر کسی نے جاتی امرا کے خلاف درخواست دی تو پھر تو ڈی سی اس کے حق میں بھی فیصلہ کرسکتا ہے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں نہیں آئے، وکیل نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں اس لیے نہیں آئے، اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں مجھے بیڈ ریسٹ کہا گیا ہے مگر یہاں بیٹھی ہوں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران کہا کہ لگتا ہے چیف سیکرٹری نے یہ قانون نہیں پڑھا؟ لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں، یہ قانون بنا کیوں ہے ؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ معاملہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو ریونیو آفیسر کیسے قبضہ دلا سکتا ہے ؟

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا، آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا ہے، آپ کا بس چلتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے، اگر ڈی سی آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دیں تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ آپ کا قانون یہ کہتا ہے کہ ہائیکورٹ معاملے پر اسٹے بھی نہیں کرسکتا، موبائل پر آپ فون کرتے ہیں اور کہتے آجاؤ ورنہ تمہارا قبضہ چلا گیا، آپ یہاں کھڑے ہیں اور آپ کا گھر جا رہا ہو گا؟

عدالت نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہو گا، کیا یہاں جعلی رجسٹریاں ،جعلی دستاویزات نہیں بنتی ہیں؟ اگر آپ کا پٹواری جعلی دستاویزات نہ بنائے تو سول عدالتوں میں اتنے کیسز دائر ہی نا ہوں، قانون کے تحت آپ نے ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی بنائی ہے، آپ کی کمیٹی کو لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی ہے، آپ کے کمیٹی ممبران لوگوں کو کہتے ہیں کہ قبضہ نہ دیا تو باہر پولیس کا ڈالا کھڑا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کمیٹی ممبران کہتے ہیں کہ دس دس سال قید سزا دیں گے، آپ نے ہمارے سول جج کو دیکھا ہے؟ کیسے خاموشی سے بیٹھا ہوتا ہے، قاضی کا فرض خاموشی سے اپنا کام کرنا ہوتا ہے، عدالت دل سے نہیں بلکہ دماغ سے فیصلے سے کرتی ہے، آپ کے ڈی سیز خواہشات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکرٹری سے پوچھا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات آپ کو دے دیے جائیں، کیا آپ اس قانون کا دفاع کر رہے ہیں؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ڈی سیز کو قبضے کا اختیار نہیں دیا گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سینکڑوں کیسز ہیں جہاں ڈی سیز نے قبضے دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس قانون کے تحت میں یہاں بیٹھی ہوں کوئی درخواست دے اور میرے گھر کا قبضہ بھی ہوجائے گا، جن پٹواریوں کو آپ نے اختیارات دیے، یہی کل کو قبضہ گروپس کے ساتھ مل جائیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس پر عمل درآمد روکتے ہوئے درخواست پر فل بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا اور پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گیے قبضوں کو واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

مشہور خبریں۔

وفاقی حکومت کا 2 ارب روپے کی لاگت سے پرانے اور غیر موثر پنکھوں کو تبدیل کرنے کا منصوبہ

?️ 8 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت حکومت

عراق نے داعش کا بین الاقوامی نیٹ ورک کو ختم کر دیا

?️ 2 ستمبر 2025عراق نے داعش کا بین الاقوامی نیٹ ورک کو ختم کر دیا

حزب اللہ کے 11 بنیادی کارنامے؛علاقائی سیاسی مساوات میں نیا موڑ

?️ 12 مئی 2026سچ خبریں:لبنان میں جنگ کے دوران حزب اللہ کے 11 بنیادی کارنامے

صیہونیوں کے ہاتھوں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

?️ 11 دسمبر 2021سچ خبریں: وزارت صحت نے  نابلس کے جنوب میں 31 سالہ فلسطینی جمیل

صدر زرداری نے وزیراعظم آزادکشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دی

?️ 25 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری

ترکی میں سیکڑوں قیدیوں کی خودکشی اور جیلوں کے سنگین حالات

?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں: ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ایک نائب کی رپورٹ کے مطابق

ورلڈ کپ فاتح کھلاڑیوں کو دنیا کا انوکھا ترین انعام

?️ 22 جولائی 2026سچ خبریں:اسپین کے دو ورلڈ کپ فاتح فٹبالرز گاوی اور فابیان روئز

2021 میں لاتینی امریکہ امریکی خواب کو مٹانے کے لئے چند قدم

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں: لاتینی امریکہ، خاص طور پر نومبر 2021 میں، صدارتی، پارلیمانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے