?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور اس کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی گئی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی جاری نجکاری کو چیلنج کرنے والی ایک پرو بونو درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ نجکاری کمیشن نے نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔
عدالتی فیصلے نے قومی ایئرلائن کی آسان فروخت کی راہ ہموار کر دی۔
یہ درخواست ایڈووکیٹ سردار عنبر مقصود نے دائر کی تھی، جنہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ نجکاری کمیشن، سیکشن 23 کے تحت باضابطہ نوٹس جاری کرنے میں ناکام رہا اور سیکشن 24 کے تحت اثاثوں کی قانونی طور پر ویلیوایشن نہیں کی گئی۔
درخواست گزار نے یہ بھی استدعا کی تھی کہ نجکاری اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام تک عمل درآمد کو معطل کیا جائے۔
تفصیلی فیصلہ تحریر کرنے والے جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے ارادے کو عالمی اور قومی اخبارات میں شائع کیا تھا جن میں فنانشل ٹائمز، چائنا ڈیلی، دی وال اسٹریٹ جرنل، روزنامہ ڈان اور جنگ شامل ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ارنسٹ اینڈ ینگ کنسلٹنگ ایل ایل سی دبئی کو بطور مالی مشیر مقرر کیا گیا تاکہ پی آئی اے کے ملکی اور غیر ملکی اثاثوں کی آزادانہ ویلیوایشن قانون کے مطابق کی جا سکے۔
عدالت نے درخواست کو یہ قرار دے کر مسترد کیا کہ نجکاری کا عمل آرڈیننس کی دفعات 23 اور 24 پر پورا اترتا ہے، درخواست گزار کوئی معتبر ثبوت یا دستاویز فراہم کرنے میں ناکام رہا اور عدالتی نظرثانی کو اس وقت تک انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ واضح طور پر قانون یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت نہ ہو۔
معاشی پالیسی میں عدالتی مداخلت کے وسیع تر سوال پر عدالت نے عدالتی ضبط نفس کی ضرورت پر زور دیا اور سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملات میں عدالتی مداخلت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
جسٹس حسن نے خبردار کیا کہ غیر سنجیدہ درخواستیں حساس معاشی اصلاحات کو متاثر کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی درج کیا گیا کہ پی آئی اے سی ایل کے لیے بولی کا عمل پہلے ہی منسوخ کیا جا چکا ہے لہٰذا درخواست غیر مؤثر ہو گئی، تاہم عدالت نے وضاحت کی کہ اگر کارروائی جاری بھی رہتی تو بھی نجکاری کمیشن کا عمل قانونی اور شفاف تھا۔
درخواست گزار کی جانب سے ویلیوایشن ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی اور نجکاری کمیشن کے ریگولیشنز برائے رازداری 2003 کا حوالہ دیا جن کے مطابق ویلیوایشن رپورٹس اور ڈیو ڈیلیجنس دستاویزات خفیہ تصور کی جاتی ہیں۔
37 صفحات پر مشتمل فیصلے کے اختتام پر عدالت نے اس بات کی توثیق کی کہ نجکاری وفاقی حکومت کے آئینی مینڈیٹ (آرٹیکل 173) کا حصہ ہے، جس کا مقصد خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
عدالت نے وکلا کو تنبیہ کی کہ عوامی مفاد کی درخواستوں کو غلط استعمال کر کے معاشی پالیسی کے معاملات میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔


مشہور خبریں۔
انگلینڈ میں رائے شماری کی تازہ ترین صورتحال
?️ 20 جون 2024سچ خبریں: ڈیلی ٹیلی گراف نے ایک سروے کے نتائج شائع کرتے ہوئے
جون
واٹس ایپ کی وہ سہولت جس سے اکثرصارفین واقف نہیں
?️ 4 اکتوبر 2021سان فرانسسکو(سچ خبریں) واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ایک ایسا فیچر
اکتوبر
پوری زندگی سمجھتی رہی کہ میری رنگت بہت گوری ہے، صبا حمید
?️ 27 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکارہ صبا حمید نے انکشاف کیا ہے کہ
مارچ
حکومت کا زیرِ حراست 290 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا دعویٰ
?️ 25 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری
دسمبر
شہید ہنیہ کی شہادت کی رات کیا ہوا ؟
?️ 3 اگست 2024سچ خبریں: ایران میں حماس کے نمائندے نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت
اگست
صیہونی حکومت نے غزہ جنگ میں 890 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے
?️ 11 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی
جولائی
غزہ میں طبی خدمات کی خوفناک صورتحال
?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں: فلسطینی وزارت صحت نے جمعرات کی صبح اعلان کیا ہے
اکتوبر
عمران خان نے حکومتی کارگردی کو بہتر بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی
?️ 6 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کارکردگی اور بیانیہ کو
اپریل