قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار تک ملتوی

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سوا گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو اجلاس کو تحریک پر بحث کیے بغیر ہی اتوار تک ملتوی کردیا گیا۔

تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانے کے بعد اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے آج شام کو قومی اسمبلی ہال کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے لیے استعمال کرنے کی تحریک پیش کی۔

اپوزیشن نے تحریک کی مخالفت کی اور رائے شماری کے بعد تحریک مسترد کر دی گئی۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی قومی برائے سلامتی کمیٹی کا اجلاس اب کمیٹی روم نمبر دو میں ہوگا۔

اس کے بعد وقفہ سوالات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی شازیہ مری اور مسلم لیگ (ن) کے روحیل اصغر سمیت اپوزیشن اراکین کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر سے ایک ہی سوال کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب کی جائے گی۔

اپوزیشن اراکین نے تحریک عدم اعتماد پر فوری ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی وقفہ سوالات کے دوران سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور اراکین سوالات پوچھنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے، اس لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 3 اپریل بروز اتوار دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں 28 مارچ کو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی جہاں اپوزیشن کے 161 اراکین نے تحریک کی حمایت کی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے سامنے ‘خفیہ خط’ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تحریک پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اسمبلی کے رولز اینڈ پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس 2007 کی ذیلی شق 4 کے تحت وزیر اعظم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پیش کر رہا ہوں۔

شہباز شریف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد اراکین کی گنتی کی گئی تھی جہاں حکومتی اتحادی جماعتیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین ایوان میں موجود نہیں تھے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد بحث کے لیے اپوزیشن کے 161 اراکین کی حمایت پر منظور کرلی گئی تھی۔

اپوزیشن نے 10 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی تھی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا تھا۔

حکومت کی دو اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد منحرف ایم این ایز پہلے ہی حکومتی پالیسیوں پر اپنی تنقید کے ساتھ کھل کر سامنے آچکے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کے طور پر نااہل ہونے کی قیمت پر بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر سکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے ) نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

تارکین وطن کے ساتھ امریکہ کا نیا جارحانہ سلوک

?️ 26 اگست 2022سچ خبریں:   نیویارک شہر کے حکام نے بتایا کہ ٹیکساس کے گورنر

مقبوضہ فلسطین میں تنازعہ کی شدت پر صیہونی تشویش کا اظہار

?️ 23 اپریل 2022حالیہ دنوں میں مسجد الاقصی میں کشیدگی میں اضافے کے بعد صیہونی

صہیونی آبادکاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں دو مساجد نذر آتش

?️ 26 جولائی 2026سچ خبریں:رپورٹس کے مطابق صہیونی آبادکاروں نے نابلس اور طولکرم کے قریب

"سوڈان میں جنگ کا خاتمہ” خرطوم اور واشنگٹن حکام کے درمیان مذاکرات کا مرکز

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: سوڈانی وفد نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی حکام

سوڈان کو فوری طور پر انسانی امداد بھیجی جائے:اسلامی تعاون تنظیم

?️ 7 مئی 2023سچ خبریں:اسلامی تعاون تنظیم نے انسانی ہمدردی کے اداروں کے رکن ممالک

لبنان پر صہیونی حملوں کا سلسلہ جاری، صور اور نبطیہ میں 19 شہید

?️ 20 مئی 2026 سچ خبریں:صہیونی حکومت لبنان کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی جے بلنکن سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے وزیر خارجہ کا اہم بیان

?️ 30 جنوری 2021امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی جے بلنکن سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو

آئینی ترمیم پر اتفاق رائے سے متعلق بیانات مضحکہ خیز ہیں، امیر جماعت اسلامی

?️ 20 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے