?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے مسلم امہ پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کی غزہ یا مغربی کنارے سے زبردستی نقل مکانی کو نسلی تعصب کی بنیاد پر بے دخلی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسحٰق ڈار نے جدہ، سعودی عرب میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کی جانب سے فوری سفارشات بھی پیش کیں جن میں جنگ بندی معاہدے پر تین مراحل میں مکمل اور فوری عمل درآمد شامل ہے، دشمنی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غیر محدود انسانی امداد تک رسائی اور تعمیر نو کا ایک جامع منصوبہ بھی پاکستان کی تجاویز کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 (2024) پر عمل درآمد کے مطالبے کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونی چاہیے، جنین، تلکرم، نور الشمس اور الفارع میں پناہ گزین کیمپوں کی تباہی نے غزہ کی تباہی کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری نقل مکانی، غیر قانونی قبضے اور آباد کاروں پر تشدد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 (2024) اور 2334 (2016)کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے اور الحر م الشریف/مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کو وسیع اور بلا روک ٹوک انسانی امداد ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (5) کے تحت اسرائیل کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس کام میں آسانی پیدا کرے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد اس ذمہ داری کو تقویت دیتی اور انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک غیر اخلاقی عمل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، انسانی امداد کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے، جبکہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو سرخ لکیر کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ او آئی سی کو اجتماعی طور پر فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت اور روکنا چاہیے، چاہے وہ براہ راست جبر کے ذریعے ہو یا انسانی امداد اور تعمیر نو کی آڑ میں ہو، اس طرح کا کوئی بھی اقدام نسلی تعصب کی بنیاد پر بے گھر کرنے کا عمل اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کی جانب ایک قابل اعتماد اور ناقابل واپسی سیاسی عمل کی بحالی اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، یہی پائیدار امن کا واحد قابل عمل حل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کو فلسطین کی ریاست کو اقوام متحدہ کے مکمل رکن کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بھی اپنے اجتماعی اثر و رسوخ کو متحرک کرنا چاہیے۔
فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں جون میں ہونے والی آئندہ کانفرنس کے حوالے سے اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس مسئلہ فلسطین کے پرامن اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے ایک اہم موقع ہوگا۔ او آئی سی کو غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کو اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن سفارتی اور اقتصادی اقدامات کرنے چاہئیں، اس میں تجارتی پابندیاں، مسلسل سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی شامل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مصر کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متوازن، عملی اور موثر طریقہ کار پیش کرتا ہے، یہ حقیقت کہ فلسطینیوں کو اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں شامل کیا گیا ہے اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کا تصور کیا گیا ہے، اس سے اس منصوبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔


مشہور خبریں۔
پاکستان اور امریکی کنسورشیم کے درمیان روزویلٹ ہوٹل کے معاہدے پر دستخط
?️ 3 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران حکومتِ پاکستان نے روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ
فروری
دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ایجنسیوں کی فی الوقت عام انتخابات نہ کروانے کی تجویز
?️ 11 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات پر بدستور بے یقینی
مارچ
پولیس نے حلیم عادل کے خلاف چارج شیٹ پیش کر دی
?️ 27 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں) پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنما اور
مارچ
پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت
?️ 26 ستمبر 2025پاکستان اور بحرین کے درمیان عسکری تعاون میں پیش رفت منامہ اور
ستمبر
یوکرین پر لگنے والے روسی میزائل اورشنیک نے کیا نقصان کیا ہے؟پینٹاگون کا بیان
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں:پینٹاگون کی معاون ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اب
نومبر
شہادت طلبانہ کاروائیاں جاری رہنے سے صیہونی پریشان
?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:متعدد صیہونی حلقوں نے فلسطینیوں کی شہادت طلبانہ کارروائیوں کے جاری
مئی
ایشیا اور بحرالکاہل،عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلی کے آثار
?️ 21 ستمبر 2025ایشیا اور بحرالکاہل،عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلی کے آثار اگرچہ امریکہ
ستمبر
سعودی عرب امریکی اور صہیونی منصوبوں کی خدمت کر رہا ہے: انصار اللہ
?️ 18 جولائی 2026سچ خبریں:انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے
جولائی