عمران خان کی درخواست پر جسٹس علی باجوہ کی سماعت سے معذرت

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی طرف سے طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت کرنے سے معذرت کرلی۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ پر ایف آئی اے کی طلبی کو لاہور ہائیکورٹ میں چلینج کر رکھا ہے جہاں جسٹس علی ضیا باجوہ نے کیس سننے سے معذرت کرلی، جس کے نتیجے میں بینچ ٹوٹ گیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے کیس کی فائل کسی دوسرے بینچ میں فکس کرنے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔

واضح رہے کہ عمران خان نے ایڈوکیٹ انتظار حسین پنجوتہ اور حسان نیازی کے وساطت سے ایف آئی اے کی طلبی کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں 7 نومبر (آج) عمران خان کو طلب کررکھا ہے جس کی انکوائری حقائق کے برعکس ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ہراساں کرنے کے لیے ایف آئی اے نے انکوائری کا آغاز کیا اور سیاسی مخالفین کو فائدہ دینے کے لیے تحریک انصاف چیئرمین کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کے الیکشن کمیشن کے فیصلے میں ایف آئی اے کو اکاؤنٹس کی چھان بین کی ہدایت نہیں کی گئی اور الیکشن کمیشن نے عمران خان سے اکاؤنٹس کی تفصیلات یا وضاحت بھی نہیں مانگی تھی۔

عمران خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے محض اکاؤنٹس کی ترسیلات کا ریکارڈ مانگا تھا جبکہ پی ٹی آئی پنجاب کے اکاؤنٹس دفتری اخراجات کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت فنڈ اکٹھے کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہوتا ہے، ایف آئی اے کو سیاسی جماعت کی فنڈنگ کے خلاف انکوائری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

درخواست میں ایف آئی اے کی ممنوعہ فنڈنگ کے الزام کی انکوائری غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹسز پر عمل درآمد روکے اور ایف آئی اے کو عمران خان کے خلاف تادیبی کارروائی سے بھی روکا جائے۔

خیال رہے کہ 29 اکتوبر کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں مبینہ طور پر جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے کے الزام میں سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کی پارٹی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں طلب کیا تھا۔

ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ ایجنسی نے پی ٹی آئی چیئرمین کو 31 اکتوبر (کل) کو کراچی میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔

ادارے نے پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ نیازی اور عامر کیانی سمیت متعدد مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل کرلیے ہیں۔

ایف آئی اے نے 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی قیادت کے خلاف لاہور اور کراچی میں دو ایف آئی آرز درج کی تھیں اور دونوں رپورٹوں میں ایک جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

لاہور میں درج ایف آئی آر میں عارف نقوی، طارق شفیع، زمان خان، منظور احمد چوہدری، مبشر احمد، حبیب بینک لمیٹڈ کی انتظامیہ اور پی ٹی آئی قیادت پر فراڈ کا الزام لگایا گیا ہے۔

بعدازاں، 5 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی طلبی کا نوٹس لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

محسن نقوی کی دعوت پر اٹلی کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

?️ 6 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی وفاقی

نیتن یاہو سعودی عرب تک ریلوے لائن کیوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟

?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ

اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، امن کیلئے 5 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

?️ 1 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

بشار اسد پوری قدرت کے ساتھ عالمی سیاسی میدان میں واپس آئے

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: دس سال پہلے ایسا لگتا تھا جیسے شامی صدر بشار الاسد

یہ تاثر درست نہیں کہ عدالتیں اداروں کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں

?️ 20 نومبر 2021لاہور (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق لاہور میں دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس

کراچی پولیس چیف کا لاپتا بچوں کی بازیابی کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم

?️ 24 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی پولیس چیف نے افسران کو حکم دیا ہے

لندن کے قریب صنعتی کمپلیکس میں خوفناک آتشزدگی

?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں:برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے قریب واقع سسیکس کے ایک صنعتی

وفاق میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا سیاسی تعاون پر اتفاق

?️ 12 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے