عالمی کمپنیاں معاشی صورتحال نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان چھوڑ رہی ہیں، وزیر خزانہ کا دعویٰ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی کمپنیاں معاشی صورتحال نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنیاں بعض اوقات اپنے گلوبل فیصلوں کی وجہ سے بھی واپس چلی جاتی ہیں، اگر چند کمپنیاں گئی ہیں تو بعض پاکستان میں آئی بھی ہیں، کچھ کمپنیاں اس لیے بھی گئیں کیوں کہ مقامی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، ابوظبی پورٹس اور یو اے ای کی دیگر کمپنیاں آرہی ہیں، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 95 ہزار نئے سرمایہ کار آئے ہيں۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں نے پیسے بنائے تو بھجوائے ہیں، معاشی استحکام آیا ہے تو دو سال میں ہم نے 4 ارب ڈالر کا بیک ڈراپ نکالا ہے، ورلڈ بینک نے ٹیکس اصلاحات پر ہماری پریزنٹیشن کی تعریف کی، ورلڈ بینک کے سامنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ ٹیکنالوجی سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے، مصرکے وزیرخزانہ نے کہا کہ میں اپنی ٹیم آپ کے پاس بھیجتا ہوں یا آپ اپنی ٹیم بھیجیں، ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہیئے، قرض لے کر تو ہم نے آگے جاکر واپس ہی کرنا ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزيب کہتے ہیں کہ گزشتہ سال ہول سیل، ریٹیلرز سے ٹیکس کلیکشن سوفیصد بڑھی ہے، شوگر، سیمنٹ، تمباکو انڈسٹری میں اضافی ٹیکس ریکور کیا گیا، لوئر، مڈل سیلریڈ کلاس کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی گئی، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں دیگر سیلیریڈ کلاسز کو بھی ریلیف دیں، چینی کی قیمتوں پر کوشش ہے ڈی ریگولیشن کی طرف جائیں، گندم کی قیمت سے متعلق 2026ء میں ڈی ریگولیشن پالیسی کا اعلان ہوگا، ڈی ریگولیشن پالیسی کے بعد گندم کی صوبے سے باہر منتقلی پر پابندی نہیں لگ سکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ریلیف اور ریسکیو اپنے وسائل سے کرسکتے ہیں، تعمیر نو کے لیے ضرورت پڑتی ہے تو ہوسکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور سموگ کی فریکیونسی بڑھتی جارہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات معیشت پر بھی پڑتے ہیں، سیلاب کے نقصانات سے قبل جی ڈی پی گروتھ اس سال 4.2 کا اندازہ تھا اور اس سال کے سیلاب سے 80 فیصد نقصان پنجاب میں ہوا، اگر موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے خطرات سے نمٹا نہ گیا تو ملکی معیشت کو تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

تل ابیب نے صالح العروری کو کیوں قتل کیا؟

?️ 5 جنوری 2024سچ خبریں:تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العروری کے

دمشق کے قریب امریکی فوجی اڈہ بنانے کی منصوبہ بندی

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:شامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ دمشق کے قریب

کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا دیا گیا

?️ 9 جنوری 2022الینوئے(سچ خبریں) کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا

یمن کی دلدل میں پھنسا سعودی عرب؛نکلنے کا راستہ

?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:عرب دنیا کے اسٹریٹجک مسائل کے تجزیہ کار نے یمن میں

ایران عرب اور اسلامی امت کا اصل حصہ ہے: اسماعیل رضوان

?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:  اسماعیل رضوان نے ایک انٹرویو میں امریکہ اور صیہونی حکومت

صہیونی دشمن کی جیلوں میں غزہ کے بہادر ڈاکٹر کی پہلی تصویر

?️ 21 فروری 2025سچ خبریں: گزشتہ شب پہلی بار صہیونی میڈیا نے اس حکومت کی جیلوں

ایران کے خوف کی وجہ سے صہیونی وفد کی دوحہ میں غیر معمولی آمد

?️ 17 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی کان نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ ایران

کیمسٹری کا نوبیل انعام تین سائس دانوں کو دینے کا اعلان

?️ 12 اکتوبر 2024 سچ خبریں: سوئیڈن کی رائل اکیڈمی آف سائنسز نے سال 2024

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے