?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔زرداری نے کہا ہے کہ آپ کو مشکل سے وزیر اعظم بنایا ابھی فوری حکومت نہیں چھوڑنی‘ حوصلے سے اس کو چلائیں،مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کے موقف کی مشروط حمایت کردی۔
سینئر صحافی نعیم اشرف بٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت میں شامل پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمیں آصف علی زرداری نے وزیراعظم سے ملاقات کی ، اس دوران شہباز شریف نے سابق صدر آصف زرداری کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے سخت فیصلوں کے لیے لانگ ٹرم حکومت کا کہا ہے ۔
اس پر شریک چیئرمین پیپلزپارٹی نےکہا کہ ابھی فوری حکومت نہیں چھوڑنی کیوں کہ آ پ کو مشکل سے وزیراعظم بنایا ہے تو اب حوصلے سے حکومت کو چلائیں اور سخت فیصلوں کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالیں ہم ساتھ دیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قائد ن لیگ نواز شریف کے موقف کی مشروط حمایت کی اور کہا کہ کچھ یقین دہانیوں کےساتھ نیا مینڈیٹ ہونا چاہئے۔
دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وزیراعظم کو فوری الیکشن کی تجویز دی ہے ، اس حوالے سے کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات ایک ہفتے میں ہو سکتی ہیں ، عام انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں فریش مینڈیٹ لیا جائے دیر کی تو بدنصیبی ہو گی ، اس کے علاوہ ایم کیو ایم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی خاطر سیاست کی قربانی دینا ہو گی، مشکل حالات میں ریاست کو دیکھنا ہے سیاست کو نہیں ۔
علاوہ ازیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے حکومت میں شمولیت کو غلط فیصلہ قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سب سے زیادہ مطالبات پی ٹی آئی کی حکومت میں مانے گئے ، عدم اعتماد پر نیوٹرل رہنا چاہیے تھا،مجبوری تھی نیوٹرل نہیں رہ سکے ، دو ہی آپشنز تھے یا عدم اعتماد کے ساتھ ہوتے یا مخالف ہوتے ، اب پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دے دیا ہے ، فیصلہ پارٹی نے کرنا ہے میں صرف مشورہ دے سکتا ہوں۔
اس پر شریک چیئرمین پیپلزپارٹی نےکہا کہ ابھی فوری حکومت نہیں چھوڑنی کیوں کہ آ پ کو مشکل سے وزیراعظم بنایا ہے تو اب حوصلے سے حکومت کو چلائیں اور سخت فیصلوں کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالیں ہم ساتھ دیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قائد ن لیگ نواز شریف کے موقف کی مشروط حمایت کی اور کہا کہ کچھ یقین دہانیوں کےساتھ نیا مینڈیٹ ہونا چاہئے۔
دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وزیراعظم کو فوری الیکشن کی تجویز دی ہے ، اس حوالے سے کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات ایک ہفتے میں ہو سکتی ہیں ، عام انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں فریش مینڈیٹ لیا جائے دیر کی تو بدنصیبی ہو گی ، اس کے علاوہ ایم کیو ایم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی خاطر سیاست کی قربانی دینا ہو گی، مشکل حالات میں ریاست کو دیکھنا ہے سیاست کو نہیں ۔
علاوہ ازیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے حکومت میں شمولیت کو غلط فیصلہ قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سب سے زیادہ مطالبات پی ٹی آئی کی حکومت میں مانے گئے ، عدم اعتماد پر نیوٹرل رہنا چاہیے تھا،مجبوری تھی نیوٹرل نہیں رہ سکے ، دو ہی آپشنز تھے یا عدم اعتماد کے ساتھ ہوتے یا مخالف ہوتے ، اب پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دے دیا ہے ، فیصلہ پارٹی نے کرنا ہے میں صرف مشورہ دے سکتا ہوں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
یوکرین پر لگنے والے روسی میزائل اورشنیک نے کیا نقصان کیا ہے؟پینٹاگون کا بیان
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں:پینٹاگون کی معاون ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اب
نومبر
شہداء ہمارا فخر ہیں
?️ 25 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) یوم پاکستان پریڈ کے مہمان خصوصی صدر مملکت ڈاکٹر
مارچ
پنجاب اسمبلی معطل اپوزیشن ارکان کیخلاف ریفرنس معاملہ، حکومت اوراپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل
?️ 12 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کے
جولائی
جرمن وزیرِ خارجہ کا خلیجِ فارس کا دورہ
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں:جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان وادفول خلیجِ فارس کے دورے پر
اکتوبر
صیہونیوں کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی؛ حماس کا بیان
?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی قابض حکومت کی جانب سے
جنوری
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل پریشان! وجہ؟
?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جنہوں نے ہمیشہ صیہونی حکومت
دسمبر
شام میں امریکی قابضین کی حالت زار
?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں کے پے درپے حملوں کے نتیجے
جنوری
رواں سال ہلاک ہونے والے صیہونی فوجیوں کی تعداد
?️ 20 اگست 2023سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ اس سال کے آغاز
اگست