حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ خطرے میں

?️

لاہور(سچ خبریں)وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے لیے انتخاب اور حلف برداری کے خلاف پی ٹی آئی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے دوبارہ انتخاب ہونے جا رہا ہے، فریقین اپنے تمام تحفظات دور کر لیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ اس فل بینچ میں گورنر کے اختیارات کے خلاف اور دیگر کیسز بھی آئے ہیں، عدالت نے مزید کہا کہ ہم 12 بجے تک کیس کو ملتوی کر رہے ہیں۔

جسٹس صداقت علی خان کا مزید کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں. تحریک انصاف کے وکیل اور پنجاب حکومت 12 بجے تک معاملات سے متعلق ہدایات لے کر پیش ہوں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ 12 بجے عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ دوبارہ اجلاس بلانے کی صورت میں بھی پولنگ وہی پریزائڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی تھی جس پر تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ہونے والی پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے. اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا۔

دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے ایک دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چیف منسٹر کو بریف کرنا ہے مزید ایک دن درکار ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے حمزہ شہباز کی تعنیاتی کو چیلنج کر رکھا ہے، عدالت نے یہ پوچھا اگر ہم درخواست منظور کر لیتے ہیں تو حالات کیا ہوں گے تاکہ بحران پیدا نہ ہو۔

عدالت میں حمزہ شہباز کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر حمزہ شہباز کے ہوتے ہوئے الیکشن کروائیں گے تو وہ غیر آئینی الیکشن ہو گا، الیکشن کے لیے کم از کم دس روز کا وقت ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ صورتحال اب ریورس نہیں ہو سکتی کیوں کہ 25 لوگ ڈی نوٹی فائی ہو گئے، 5 مخصوص نشستوں سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آ گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ 25 اراکین کو نکال کر پریذائیڈنگ افسر نے دیکھنا ہے اکثریت کس کے پاس ہے، ڈی نوٹی فائی ہونے والے افراد اگر اب الیکشن ہوتا ہے تو اس میں شمار نہیں ہوں گے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر پرانی صورتحال بحال ہوتی ہے تو تب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار تھے۔

جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے، یہ عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

جسٹس شاہد جمیل کا کہنا تھا کہ چیف مسنٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن درست ہے یا نہیں یہ لا ڈویژن کا کام ہے ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم تو کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ دیا، ہم نے اس فیصلے پر عملدرآمد کرانا ہے، آپ دس دن کا وقت مانگ رہے ہیں تاکہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن ہو جائے، اگر نوٹیفیکیشن ہو بھی جاتا ہے تو وہ لوگ الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکیں گے جس پر علی ظفر نے کہا کہ وہ ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر 16 اپریل کی پوزیشن بحال ہوتی ہے، ایک فریق اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو دوسرا فریق اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتا ہے کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہو گا۔

دوران سماعت مسلم لیگ (ق) کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک ایم پی اے نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالا، اس ایم پی اے کا ووٹ بھی چیف مسنٹر کے الیکشن میں شمار گیا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اب تو دوبارہ انتخاب ہونےجا رہا ہے جس کے تحفظات ہیں وہ اب دور کر لے۔

جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وکیل علی ظفر نے 10روز اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے ایک دن کا وقت مانگا ہے ، وہ ہم دیکھیں گے کہ وقت دینا ہے یا نہیں دینا، ہم تھوڑی دیر میں آگاہ کریں گے کہ ہم مزید وقت دیں گے یا نہیں۔

ان ریمارکس کے بعد ججز اپنے چیمبر میں چلے گئے جب کہ کیس کی مزید سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

واضح رہے کہ 16 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، ان کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ دینے والوں میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین بھی شامل تھے۔

منحرف اراکین کے خلاف پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا جس پر فیصلہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا تھا جس کے بعد ایوان میں حمزہ شہباز کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 197 سے کم ہو کر 172 رہ گئی تھی۔

منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں مؤقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کے باعث حمزہ شہباز کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ نے اپنے عہدیداروں کے قتل کی تردید کی

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے ہفتے کی رات ایک بیان

مسجدالاقصی کی بے حرمتی کرنے والے صیہونی دہشتگردوں کو انعامات

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:صیہونی انتہا پسند گروہوں نے مسجدالاقصی کی بے حرمتی کرنے والے

قطر افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا ہے: طالبان وزیر دفاع

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:  طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ قطر

غزہ کے مستقبل کے لیے اسرائیل کے 4 خیالی محور

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:اس حقیقت کے باوجود کہ صیہونی حکومت غزہ میں اپنے اہداف

فواد خان پرکشش شخصیت کے مالک اور معاون ہیں، وانی کپور

?️ 20 اپریل 2025سچ خبریں: آنے والی رومانٹک بولی وڈ فلم ’ابیر گلال‘ میں پاکستانی

ایران کے میزائل حملے سے اسرائیل کو کافی بڑا نقصان

?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: بلومبرگ نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کی رپورٹوں

بھارت کو آبی جارحیت کا جواب قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دیں گے، وزیراعظم

?️ 5 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ

صیہونی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر وعدہ خلافی؛ جنوبی لبنان پر حملہ 

?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں:لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے اعلان کو چند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے