?️
لاہور: (سچ خبریں) بھارت کے ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے، پنجاب میں ہائی فلڈ کے خطرے کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کردیا، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بورے والا، عارف والا اور بہاولنگر کے اضلاع کو ہائی فلڈ کا خطرہ ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق ملتان ڈویژن میں سیلابی پانی کی شدت سے زمیندارہ بند ٹوٹ گیا، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
ملتان ٹول پلازہ کے قریب شیر شاہ بند پانی کے دباؤ کے باعث ٹوٹنے سے پانی ٹول پلازہ کی جانب بڑھنے لگا ہے، بستی گاگرہ اور ملحقہ علاقے زیرِ آب آچکے ہیں، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی ٹول پلازہ پر آنے سے ملتان اور مظفرگڑھ کا زمینی رابطہ منقطع ہوجائے گا۔
این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے کہ بھارتی ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج سے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ہے۔
گنڈا سنگھ والا میں موجودہ بہاؤ 3 لاکھ 35 ہزار 591 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو غیر معمولی طور پر بلند ہے۔
گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی میں اضافے کی وجہ بھارت کے پونگ اور بھاکرا ڈیموں سے پانی کا اخراج ہے، بھارت کا پونگ ڈیم 98 فیصد اور بھاکرا تقریباً 96 فیصد بھرا ہوا ہے۔
ہیڈ سلیمانکی میں ہائی فلڈ کی صورتحال متوقع ہے، جس کا تخمینہ شدہ اخراج تقریباً ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، اخراج تقریباً 95 ہزار 700 کیوسک کے قریب ہے۔
زرعی زمینوں، دیہی آبادیوں اور کمزور انفرااسٹرکچر کو نمایاں طور پر سیلابی ریلوں سے خطرہ ہے، اسی طرح قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بورے والا، عارف والا اور بہاولنگر اضلاع کو ہائی فلڈ کا خطرہ ہے۔
پنجاب میں 46 اموات، 35 لاکھ افراد متاثر
ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 46 تک پہنچ گئی، 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب سے 4 ہزار کے قریب بستیاں ڈوب گئی ہیں، 15 لاکھ کے قریب افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ قادر آباد کے مقام پر چناب کا پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں جائے گا، جھنگ پہنچنے پر چناب کا پانی مزید پریشانی کا سبب بنے گا۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ سیلاب نے نہ صرف قیمتی جانیں لی ہیں, بلکہ بڑے پیمانے پر معاشی نقصانات بھی پہنچائے ہیں، جن میں 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی اور تقریباً 4 ہزار دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے زرعی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کی ہدایت دی ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ریلیف کیمپوں اور زیرِ آب علاقوں میں ملیریا اور دیگر آبی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے فیومیگیشن اور مچھروں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ کیوسک کا ریلا 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی شب سندھ میں داخل ہوگا۔
گنڈاسنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی شدید سیلاب
فلڈ فور کاسٹ ڈویژن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس کے مقام پر دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر غیر معمولی طور پر شدید سیلاب کی صورتحال ہے۔
گنڈا سنگھ والا میں پانی کے اخراج میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے، جب کہ سدھنائی پر پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے، اور یہ ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک کے قریب پہنچ گیا ہے۔
دریائے چناب پر کھنکی، قادرآباد اور چنیوٹ میں انتہائی شدید سیلابی صورتحال دیکھی گئی ہے۔
راوی اور چناب کے پانی سے ملتان، مظفرگڑھ کو دہرا خطرہ
دوسری جانب جب خانیوال کے قریب دریائے راوی اور چناب کے پانیوں کا سنگم ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے لیے خطرہ بننے لگا، یہ ’دوہرا خطرہ‘ پچھلے ہفتے کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کے باوجود برقرار رہا۔
ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پر پانی کی سطح 417 فٹ سے بھی اوپر چلی گئی، جو خطرے کی حد سے بھی زیادہ ہے ، حکام نے اگلے چند انتہائی نازک قرار دیے ہیں، کیوں کہ خانیوال کے قریب راوی اور چناب کے سنگم کے بعد کٹائی کے مقامات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
مشرقی دریاؤں کے کنارے شہری مراکز کو بچانے کے لیے پنجاب حکومت ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت کنٹرولڈ شگاف ڈالے جارہے ہیں، تاکہ بیراجوں اور مرکزی حفاظتی بندوں پر دباؤ کم کیا جا سکے اور گنجان آباد شہروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ فیصلہ کہ ہیڈ محمدوالا، شیر شاہ فلڈ بند اور رنگ پور پر کٹ لگایا جائے یا نہیں، چند گھنٹوں میں متوقع ہے تاکہ ملتان اور مظفرگڑھ کو بچایا جا سکے، اس مقصد کے لیے 17 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
شجاع آباد، کبیر والا میں درجنوں دیہات ڈوب گئے
دریائے راوی کا سیلابی ریلا ملتان میں ریلوے برج تک پہنچ گیا ہے، جب کہ کبیر والا میں درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔
ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچادی، متعدد بستیاں زیرآب آگئیں اور لوگ اپنی مدد آپ کےتحت نقل مکانی کر رہے ہیں، لودھراں میں بھی 5 بستیوں کے بند ٹوٹ گئے۔ پانی فصلوں میں داخل ہوگیا اور دیہات کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اونچے درجےکا سیلاب ہے، بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 130 کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے، جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ 60 ہزار 580 کیوسک ہے، جب کہ پانی کا اخراج ایک لاکھ 57 ہزار 580 کیوسک ہے۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، پانی کی آمد اور اخراج 85 ہزار980 کیوسک ہے۔


مشہور خبریں۔
بنوں، لکی مروت میں پولیس، سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، 5 خوارج ہلاک
?️ 15 نومبر 2025بنوں : (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں
نومبر
علی باقری حکومت کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ
?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: علی باقری کنی، سیاسی نائب وزیر برائے خارجہ امور اور ایران
مئی
مقبوضہ فلسطین میں بھی نیتن یاہو کی خیر نہیں
?️ 3 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی ریاست کے
ستمبر
سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق فیصلہ آج بھی نہ ہوسکا
?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کی خصوصی
فروری
وفاقی وزارتوں کی ’ای آفس‘ احکامات کی عدم تعمیل، وزیراعظم کا اظہار برہمی
?️ 7 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں کے
جنوری
بلیو اکانومی کو اقتصادی ترقی کی حکمت عملی کے مرکزی ستون کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں، وزیراعظم
?️ 13 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل میری ٹائم
ستمبر
اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی مرکزی سیکریٹریٹ فوری ڈی سیل کرنے کا حکم
?️ 4 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے
جون
پرویز الہٰی اڈیالہ جیل سے گرفتار، ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور
?️ 16 ستمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور
ستمبر