بھارت کیخلاف پاکستان نے 96 گھنٹوں تک اپنے وسائل سے جنگ لڑی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف 96 گھنٹوں کی لڑائی مکمل طور پر اپنے وسائل سے لڑی، باہر سے کوئی مدد حاصل نہیں کی، بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع میں پاکستان نے 96 گھنٹے تک مکمل طور پر اپنے وسائل پر انحصار کیا، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان نے جو آلات استعمال کئے وہ ایسے ہی ہیں جیسے انڈیا کے پاس ہیں۔

پاکستان نے کچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے۔ہم نے صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پرانحصار کیاہے۔ اس کے علاوہ حقیقی وقت میں ہم نے کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی اس جنگ میں صرف اور صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے متنازع علاقے میں جھڑپیں ہوتی تھی بین الاقوامی سرحد تک نہیں پہنچتی تھیں۔

اس بار سرحدوں پر نسبتاً سکون رہا اور شہروں میں کشیدگی تھی۔ مستقبل میں تنازع صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہے گا۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کیلئے کوئی موثر اور منظم طریقہ کار موجود نہیں۔ مستقبل کی جنگ کا اثر 1.5 ارب لوگوں کی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کی ضروریات پر بھی پڑے گا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے مزید کہا ہنگامی رابطوں کیلئے صرف ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن ہی انحصار ہوتا ہے۔

آپ کا واسطہ انتہا پسند ذہنیت کے ساتھ ہو تو عالمی برادری کے پاس مداخلت کیلئے محدود وقت ہوتا ہے۔ اس بار امریکاہاور دیگر ممالک نے کیا وہ مہلت بھی اب بہت محدود ہو چکی ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل بھی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھرپور اور موثر جواب دینے کے بعد بھارت کو سرحد پر تعینات اپنی افواج کی تعداد کم کرنا پڑی تھی یہ ایک جارحانہ کشیدگی تھی جس کی شدت کو اب کم کردیا گیا ہے اور ہم اب 22 اپریل سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آ چکے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا تھاکہ دونوں ممالک سرحد پر افواج کی تعداد میں کمی لا رہے تھے۔ پہلے ہماری کشیدگی متنازعہ علاقے تک محدود رہتی تھی اس بار کشیدگی بین الاقوامی سرحد پر تک پہنچ گئی تھی۔اس تنازعے کے دوران جوہری ہتھیاروں کی طرف کوئی پیشرفت نہیں ہوئی یہ ایک خطرناک صورتحال تھی۔

بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم تھا۔ہم مسلسل پہلگام واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے مگر بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو کسی تحقیقات کے بغیرہی 24 گھنٹے کے اندر معاہدہ معطل کردیا تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم زرعی ملک ہیں اور یہ ہمارے وجود کیلئے خطرہ تھا۔

پاکستان نے ہر فورم پرمعاملے کی غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی تاکہ سچ سامنے آ سکے مگر بھارت نے اس پر مثبت ردعمل دینے کے بجائے جارحانہ اقدامات کو ترجیح دی تھی۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ مستقبل میں جب بھی کشیدگی ہوگی تو پاکستان اور بھارت مکمل ملوث ہونگے۔

مستقبل میں بھی یہ کشیدگی متنازعہ علاقے تک محدود نہیں رہے گی۔پاک بھارت جنگ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرائسز منیجمنٹ میکنزم منظر سے غائب تھادوسری جانب سے انتہائی غیر محتاط اقدامات اٹھائے جارہے تھے۔کرائسز منیجمنٹ میکنزم کی غیرموجودگی میں عالمی برادری کیلئے مداخلت کرنا مشکل ہوگیا تھا۔عالمی برادری کے متحرک ہونے سے پہلے ہی کافی نقصان ہوچکا تھا۔

مشہور خبریں۔

صہیونی فوج کی تل ابیب کو ہدایت؛ یمنی فورسز سے جنگ میں نہ الجھیں

?️ 15 ستمبر 2026سچ خبریں:ہارٹیز کے مطابق صہیونی فوج نے سیاسی قیادت کو انصار اللہ

وزیرستان میں متحرک دہشت گرد گروپ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا

?️ 2 اکتوبر 2021بلوچستان (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں متحرک

غزہ کے خلاف ٹرمپ کی سازش پر عرب اسلامی اداروں کا شدید ردعمل

?️ 28 جنوری 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لوگوں کو بے

ہتھیاروں کی برآمدات اور اس کے چیلنجز کے لیے ترکی کے امکانات

?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں: ترکی میں پچھلے کچھ سالوں میں، ممکنہ طور پر سب

عرب ملک میں دنیا کی سب سے بڑی جوہری تنصیبات کے تعمیراتی منصوبے کا آغاز  

?️ 6 اپریل 2025 سچ خبریں:روسی جوہری توانائی کمپنی روز اٹوم کے سربراہ نے اعلان

بحیرہ اسود میں امریکی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ

?️ 8 جولائی 2026سچ خبریں:ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ بحیرہ اسود میں روسی

صیہونی ٹرانسپورٹ کمپنی کی سعودی عرب کے ساتھ تجارتی روٹ کے قیام کی تیاریاں

?️ 7 جولائی 2021سچ خبریں:کچھ ذرائع نے سعودی عرب کے ساتھ حمل و نقل کا

قازق مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں اصلاحات

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں: قازقستان کے نئے وزیر اعظم علی خان اسماعیلوف نے کابینہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے