بجلی کے کرایے میں اضافے کی وجہ سے حکومت پر سخت تنقید ہورہی ہے

بجلی کے کرایے میں اضافے کی وجہ سے حکومت پر سخت تنقید ہورہی ہے

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ‘منتخب وزیر اعظم اور ان کے کرائے کے ماؤتھ پیس’ سے کہا کہ وہ جھوٹ بولنا بند کریں اور کھل کر اعلان کریں کہ وہ قوم پر ‘884 ارب روپے کا بجلی کا بم گرانے والے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)  کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں قابل ذکر اضافے کی طے کی گئی شرائط پر پورا اترنے کے لیے آرڈیننس کے اجرا کے منصوبے پر اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان وہ ‘پہلے’ وزیر اعظم ہیں جو آرڈیننس کے ذریعہ قوم کو ‘لوٹ رہے’ ہیں، نااہل حکومت اب ‘قوم کو لوٹنے کے لیے نیا آرڈیننس’ لا رہی ہے۔

مریم اورنگزیب نے سینیٹ انتخابات کے لیے خفیہ رائے شماری کی آئینی اسکیم کو ایک آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے بجلی کے فی یونٹ (تقریباً) 6 روپے اضافہ پاکستان کے عوام کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘پاکستانی عوام کو ملک میں بت قابو مہنگائی کے سیلاب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے کہا کہ حکومت جو عوام پر مسلط کی گئی ہے وہ اپوزیشن کے بارے میں ‘جھوٹ بولنے’ کے بجائے کھانے پکانے کے تیل، گھی، انڈوں، مرغی اور دال کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ گندم کے آٹے، چینی، دوائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد حکومت لوگوں پر 884 ارب روپے کا بجلی کا بم گرانے والی ہے۔

سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے بھی حکومت کو آئی ایم ایف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تین آرڈیننسز جاری کرنے کے منصوبے پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ‘نیا آرڈیننس نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) کو کابینہ کو بھی نظرانداز کرنے اور آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا حق دے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘صارفین سے ٹیکس کاٹ کے 36 فیصد کے اضافی بجلی کے بل وصول کرنے کے لیے 5.6 روپے کے نئے چارجز لگائے جائیں گے جس سے 884 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے رہائشی منصوبے جو حکومت مزدوروں کے لیے اپنی فلاحی اسکیم کے طور پر پیش کررہی ہے کو در حقیقت پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2012 میں شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی اراضی 1996 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے خریدی تھی، بالکل اسی طرح جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو انہوں نے احساس کے نام سے تبدیل کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ڈونباس کے میدان جنگ میں پے در پے شکست اور زلنسکی کی حالت زار

?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: ڈونباس کے میدان جنگ میں پے در پے شکستوں کے

جب تک پارٹی قیادت چاہے گی عہدے پر رہوں گا: وزیر اعلیٰ سندھ

?️ 30 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ میں تبدیلی

کراچی والوں کیلئے خوشخبری، کے الیکٹرک کی بجلی 5 روپے سستی کرنے کی درخواست

?️ 14 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) کے الیکٹرک نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی

الیکشن کمیشن نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ فراہم کرنے کے پی ٹی آئی کے الزامات مسترد کردیے

?️ 7 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے

امریکہ کی مزید صیہونی قبضے کی مخالفت

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر تھامس نائیڈز نے کہا کہ امریکی

سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

?️ 8 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی

آرمی چیف، ان کے اہل خانہ کی ذاتی معلومات تک رسائی کی تحقیقات کا حکم

?️ 7 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے