?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ریفائننگ یونٹس کی بندش اور اسٹوریج کی رکاوٹوں کی وجہ سے سپلائی چین کے چیلنجز کے درمیان، حکومت نے وزارت داخلہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے کہا ہے کہ وہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے تیل کی اسمگلنگ کے خلاف فوری کارروائیاں شروع کریں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے متعلقہ سول ایجنسیوں کو زیادہ سے زیادہ تعاون فراہم کرنے کے لیے یہ معاملہ دفاعی حکام کے سامنے بھی اٹھایا ہے، جس سے سیکڑوں ارب روپے کا سالانہ نقصان ہوتا ہے اور پیٹرولیم سپلائی چین کے کام پر منفی اثر پڑتا ہے۔
تیل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کی جانب سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور اور وزیر اعظم کے دفترکو کی گئی شکایت کی بنیاد پر پیٹرولیم ڈویژن کے ایک مواصلت کے مطابق، علیحدہ طور پر، وزارت داخلہ اور ایف بی آر کو اس نازک مسئلے کو حل کرنے کے لیے مناسب اور فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پانچوں گھریلو ریفائنریز مشترکہ طور پر، انفرادی طور پر اور 3 درجن ریفائنریز اور پیٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیوں کی ایک نظیم او سی اے سی کے ایک حصے کے طور پر تقریباً روزانہ پیٹرولیم ڈویڑن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ان کی بقا کو درپیش چیلنجز اور مارکیٹ میں اسمگل شدہ تیل کی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر آمد کی وجہ سے تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے اپ گریڈیشن منصوبوں کو لاحق خطرے کے حوالے سے لکھتی رہتی ہیں۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کو لکھے گئے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے، پیٹرولیم ڈویڑن نے کہا کہ تیل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے پیٹرولیم کی اسمگلنگ کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، جس نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے آئل ریفائننگ پالیسی، 2023 کے تحت ریفائنری کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں میں آنے والی سرمایہ کاری کے لیے ایک سنگین خطرہ لاحق کر دیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویڑن نے گزشتہ روز وزارت داخلہ اور ایف بی آر کو خط لکھا کہ اس غیر قانونی سرگرمی سے نہ صرف معیشت کو نقصان ہورہا ہے بلکہ ریفائنری کی اپ گریڈیشن میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی خطرہ لاحق ہے، اس کے اثرات ریفائنری سیکٹر کے علاوہ بھی پڑتے ہیں، جس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی)، ڈیلرز کے منافع پر اثر پڑتا ہے اور وائٹ آئل پائپ لائن کے آپریشنز میں بھی خلل پڑتا ہے۔
وزارت داخلہ اور ایف بی آر کو بتایا گیا کہ یہ صورتحال تیل کی پوری سپلائی چین کو پریشان کر رہی ہے اور اس کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔اسی دن، او سی اے سی نے اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کو دوبارہ یاد دلایا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے اسٹاک انتہائی اونچے سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو کہ 44 دنوں کے استعمال کے لیے کافی ہے۔
ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ اس سے تیل کی صنعتی پائیداری کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے زیادہ ذخائر (اسٹوریج میں 6 لاکھ 50 ہزار ٹن) اور مسلسل کم فروخت (منصوبہ بند 23 ہزار ٹن کے مقابلے میں 14 ہزار 700 ٹن) کے درمیان خطرناک تفاوت بنیادی طور پر مغربی سرحدوں سے پی او ایل (پیٹرولیم، تیل اور چکنا کرنے والے مادوں) کی مصنوعات کی بے تحاشہ اسمگلنگ سے منسوب ہے اور اس نے ریفائنریز اور او ایم سی پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔


مشہور خبریں۔
بھارت کے پاکستان کے 6 مقامات پر میزائلوں سے حملے، 8 شہری شہید، 35 زخمی
?️ 6 مئی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت
مئی
عراق میں داعش کی نئی نسل کو سرگرم کرنے کی امریکی کوشش
?️ 12 جنوری 2023سچ خبریں:عراقی ذرائع کے مطابق امریکہ نے عراق کی سلامتی کو غیر
جنوری
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین باضابطہ طور پر پروازوں کا سلسہ شروع ہوگیا
?️ 6 اپریل 2021تل ابیب (سچ خبریں) متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین باضابطہ
اپریل
بھارتی نام نہاد مسلمان کی جانب سے قرآن کے خلاف عرضی، شیعہ-سنی علماء نے مل کر اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا
?️ 13 مارچ 2021لکھنئو (سچ خبریں) بھارت میں بی جے پی کے ایجینٹ اور نام
مارچ
صہیونی مجرمانہ دشمن کے ساتھ معمول کا کوئی جواز نہیں ہے: انصاراللہ
?️ 26 فروری 2026 سچ خبریں:عبدالملک الحوثی، رہبر تحریک انصاراللہ یمن نے بعض عرب حکومتوں
فروری
12 روزہ جنگ کے ڈراؤنے خواب کے خوف سے صیہونی حکومت انڈر گراونڈ ہسپتال بنا رہی ہے
?️ 23 فروری 202612 روزہ جنگ کے ڈراؤنے خواب کے خوف سے صیہونی حکومت انڈر
فروری
’فوری جنگ بندی کی جائے‘، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور
?️ 1 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی ایوان بالا میں غزہ میں جاری اسرائیلی
نومبر
1973ء کا متفقہ آئین بھٹو شہید کا تاریخی تحفہ ہے۔ آصف علی زرداری
?️ 29 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے
نومبر