اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے، عمران خان

?️

راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں، اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔

اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں، میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے، ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے، بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیوں کہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں، شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں، ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے، یہ جو بھی کرلیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا، میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں، مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے، میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں جس کا حساب ہونا چاہیئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے، تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئند ہے، اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے، اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے، اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا، تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں، سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل شام کو کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟

?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت اور قبضے کا

سعودی عرب کے پاس اتنے میزائل نہیں ہیں کہ انصار اللہ کا مقابلہ کر سکے:امریکی اخبار

?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انصار اللہ کے حملوں

مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت کے ساتھ وفاق میں حکومت بنائے گی، رانا ثنا اللہ کا دعویٰ

?️ 18 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ

پناہ کی تلاش؛ مایوسی کی منزل کا سفر

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد حکومتیں پناہ کے متلاشیوں

اندازہ تھا مذاکرات کا اختیار کابل کے پاس نہیں۔ خواجہ آصف

?️ 28 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں آج بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے معذرت کرلی

?️ 31 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے برعکس الیکشن

َآئندہ الیکشن میں ہمارا مقابلہ کسی پارٹی سے نہیں بلکہ مہنگائی سے ہے

?️ 23 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر حماد اظہر نے ملک میں مہنگائی کا

2022 کے اہم ترین واقعات

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:بین الاقوامی امور کے ماہرین نے 2022 کے اہم ترین واقعات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے