?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کے پاکستان مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اپنے بیل آؤٹ پیکج کے حصے کے طور پر آئندہ مالی سال کے بجٹ منصوبوں کے حوالے سے پاکستان سے بات چیت کی تیاری کر رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے ایک عرصے سے تاخیر کا شکار 1.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے اجرا کے لیے اسٹاف کی سطح کے معاہدے کی منظوری سے قبل مالیاتی خسارے جیسے بجٹ کے اہم اہداف پر مذاکرات آخری رکاوٹوں میں سے ایک ہیں۔
9ویں جائزے کے لیے ایک کامیاب اسٹاف کی سطح کا معاہدہ نومبر سے زیر التوا ہے اور اس معاہدے کے بعد پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوست ممالک اور دیگر ذرائع سے بھی رقم کی وصول کے در کھل جائیں گے۔
یہ فنڈنگ آئی ایم ایف کی جانب سے 2019 میں منظور کیے گئے 6.5 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہے، جو بجٹ سے قبل جون میں ختم ہونے والا ہے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے کہا کہ تمام آئی ایم ایف پروگراموں میں حکام آخری جائزے سے منسلک ارادے کے حوالے سے خط کا اجرا کرتے ہیں جس میں پروگرام کے بعد کی مدت کے لیے اپنے پالیسی ارادوں کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
پاکستان کئی ماہ سے ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کے سبب معاشی مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ 1.1 ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔
ملک میں اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے سبب اپریل میں افراط زر ایک سال پہلے کے مقابلے میں ریکارڈ 36.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
وزارت خزانہ نے اندازہ لگایا ہے کہ افراط زر 36 سے 38 فیصد کی حد میں رہنے کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہے۔
گزشتہ ماہ آئی ایم ایف کی چیف منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ فنڈ، پاکستان کے ساتھ اپنے موجودہ پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کی امید رکھتا ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ اگر پاکستانی حکام پہلے سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو ہم اپنے موجودہ پروگرام کو کامیابی سے مکمل کر سکتے ہیں۔
2019 کے قرض پیکج کی بحالی کے حوالے سے پاکستان سے جاری بات چیت کے بارے میں سوال کے جواب میں جارجیوا نے کہا کہ ہم اپنے موجودہ پروگرام کے سلسلے میں پاکستان میں حکام کے ساتھ بہت کام کر رہے ہیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کے پاس پالیسی فریم ورک موجود ہے۔
آئی ایم ایف کی عہدیدار نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا مقصد اس مقام تک پہنچنے سے بچنا ہے جہاں ملک کا قرضہ غیر مستحکم ہو جائے، ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں اور وہاں نہ جانا ہی بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ پاکستان کو مالی یقین دہانیوں کی فراہمی پر کس طرح مدد کی جائے تاکہ ہم اس پروگرام کو مکمل کر سکیں۔


مشہور خبریں۔
کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی
?️ 27 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے چند روز قبل اعلان
فروری
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو ہیومن رائٹس کورٹ کے قیام کا حکم
?️ 24 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل میں قیدیوں پر
اکتوبر
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈریار محمد رند نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا
?️ 24 جون 2021بلوچستان(سچ خبریں) بلوچستان کے وزیر تعلیم و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
جون
نواز، شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر عدلیہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں، چوہدری پرویز الہٰی
?️ 8 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے کہا
مئی
امریکی صدرٹرمپ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کوئی علم نہیں، دفتر خارجہ
?️ 17 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا
جولائی
نمرہ خان نے رشتے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ بتا دی
?️ 4 اگست 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ و ماڈل نمرہ خان
اگست
سید حسن نصراللہ کی تدفین کہاں ہوگی؟حزب اللہ کا اعلان
?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر نے سید
اکتوبر
کینیڈین وزیر ایک سادہ سوال کا جواب دینے سے عاجز
?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:محترمہ وزیر صاحبہ! کیا آپ یوکرین پر حملے کی وجہ سے
مارچ